انوارالعلوم (جلد 20) — Page 163
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۶۳ دیبا چه تفسیر القرآن رانیں اور لوہے کے پاؤں قرار دی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ پتھر بت کے پاؤں پر گرے گا یعنی مشرقی رومی حکومت کے آخری حصہ سے اس کا ٹکراؤ ہو گا اور وہ رومی حکومت یعنی کلیسیا کی نمائندہ حکومت کو توڑ دے گا ۔ پس اس پیشگوئی سے مراد کلیسیا کسی صورت میں نہیں ہو سکتا۔ مسیح تو مشرقی رومی حکومت سے پہلے آیا تھا اور کلیسیا کا رومی حکومت کو توڑ نا کیا معنی ! رومی حکومت تو اس کی نمائندہ تھی جس نے رومی حکومت کو توڑا وہی اس پتھر والی پیشگوئی کا موعود تھا۔ پس یہ پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کے سوا اور کسی کے ذریعہ سے پوری نہیں ہوئی ۔ پھر جیسا کہ پیشگوئی میں بتایا گیا تھا کہ وہ پتھر تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور پہاڑ کی طرح بن جائے گا ویسا ہی ہوا ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے قیصر و کسری کو شکست دی تو تمام دنیا پر اسلامی حکومت پھیل گئی اور وہ چھوٹا سا پتھر ایک پہاڑ بن کر دنیا پر چھا گیا اور ایک ہزار سال تک دنیا کی قسمت کا فیصلہ مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔