انوارالعلوم (جلد 20) — Page 160
انوار العلوم جلد ۲۰ 17۔دیباچہ تفسیر القرآن تمام زمین پر حکومت کرے گی اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضبوط ہوگی اور جس طرح کہ لوہا توڑ ڈالتا ہے اور سب چیزوں پر غالب ہوتا ہے ہاں لوہے کی طرح سے جوسب چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے اُس ہی طرح وہ ٹکڑے ٹکڑے کرے گی اور کچل ڈالے گی اور جو کہ تو نے دیکھا کہ اُس کے پاؤں اور اُنگلیاں کچھ تو کمہار کی ماٹی کی اور کچھ لوہے کی تھیں تو اس سلطنت میں تفرقہ ہوگا۔مگر جیسا کہ تُو نے دیکھا کہ اس میں لوہا گلا دے ۱۲۹ سے ملا ہوا تھا۔سولو ہے کی توانائی اُس میں ہوگی اور جیسا کہ پاؤں کی اُنگلیاں کچھ لوہے کی اور کچھ مائی کی تھیں سو وہ سلطنت کچھ قوی کچھ ضعیف ہوگی اور جیسا تو نے دیکھا کہ لوہا گلا وے سے ملا ہوا ہے وے اپنے انسان کی نسل سے ملاویں گے لیکن جیسا لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا تیسا وے باہم میں نہ کھاویں گے اور اُن بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت بر پا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو دے گی اور وہ سلطنت دوسری قوم کے قبضہ میں نہ پڑے گی وہ اُن سب مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی تا ابد قائم رہے گی جیسا کہ تُو نے دیکھا کہ وہ پتھر بغیر اس کے کہ کوئی ہاتھ سے اُس کو پہاڑ سے کاٹ نکالے آپ سے آپ نکلا اور اُس نے لو ہے اور تانبے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔خدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقینی ہے اور اُس کی تعبیر یقینی کا اس تعبیر میں خود حضرت دانیال نے سونے کے سر سے بابل کا بادشاہ مرا دلیا ہے۔چاندی کے سینہ اور چاندی کے بازو سے مراد فارس اور مادہ کی حکومت تھی جو بابل کی بادشاہت کے بعد آئی۔تانبے کی رانوں سے مراد سکندر کی حکومت تھی جو اُس کے بعد دنیا پر غالب ہوا۔اور لو ہے کی ٹانگوں سے مراد روما کی حکومت تھی جو ایرانی حکومت کے تنزل کے وقت دنیا میں طاقتور ہوئی۔اس آخری حکومت کے متعلق لکھا ہے اُس کے پاؤں کچھ لو ہے اور کچھ مٹی کے تھے۔جس کی تعبیر یہ تھی کہ یہ حکومت ایشیا سے یورپ میں پھیل جائے گی۔لوہے کی ٹانگوں سے مراد یوروپین حکومت ہے کہ وہ بوجہ ایک قوم اور ایک مذہب ہونے کے زیادہ مضبوط تھی لیکن پاؤں۔