انوارالعلوم (جلد 20) — Page 158
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۵۸ دیبا چه تفسیر القرآن مصر، شام اور فلسطین دوش بدوش مل کر کام کر رہے ہیں ۔ پس یہ پیشگوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پوری ہوئی اور یہ پیشگوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کی قوم کے متعلق ہی تھی۔ مسیح اور کلیسیا کی طرف اس کو منسوب کر نا صریح ظلم ہے۔ ( و ) پھر یسعیاہ میں لکھا ہے:۔ تو ایک نئے نام سے کہلا یا جائے گا جو خداوند کا منہ تجھے رکھ دے گا ۔ ۱۶۵ اسی طرح یسعیاہ باب ۶۵ میں لکھا ہے :۔ اور تم اپنا نام اپنے پیچھے چھوڑو گے جو میرے برگزیدوں پر لعنت کا باعث ہو گا کیونکہ خداوند یہوواہ تم کو قتل کرے گا اور اپنے بندوں کو دوسرے نام سے بلائے گا ۔ ۱۶۶ اس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ ایک نیا سلسلہ ایک نئے نام سے جاری کیا جائے گا اور اُس نئے نام کو یہ خصوصیت حاصل ہو گی کہ وہ نیا نام اس سلسلہ کے لوگ خود نہیں رکھیں گے بلکہ خدا تعالیٰ اپنے منہ سے اُن کا وہ نام تجویز کرے گا ۔ اس پیشگوئی کو بھی بائبل نویسوں نے کلیسیا پر لگایا ہے حالانکہ مسیحیوں کو کوئی نام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ملا ۔ ہاں اپنے طور پر مختلف مسیحی فرقوں نے اپنے اپنے نام رکھ لئے ہیں ۔ ساری دنیا میں صرف ایک ہی قوم ہے جس کو خد تعالیٰ کی طرف سے نام ملا ہے اور وہ مسلمان ہیں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ سَميكُمُ الْمُسْلِمِينَ : مِن قَبْلُ وَ فِي هذا - ١٢٧ خدا تعالیٰ نے ہی تم لوگوں کا نام رکھا ہے پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں میں بھی اور اب اس قرآن کریم کے ذریعہ سے بھی ۔ دیکھو کس طرح یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کی طرف صاف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم نے پہلے سے ہی بتا دیا تھا کہ ہم تمہارا نام خود رکھیں گے ۔ چنانچہ اب ہم نے خود سلامتی کے شہزادہ کی پیشگوئی کے مطابق تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔ یہ پیشگوئی نہایت ہی عجیب اور لطیف ہے۔ تمام دنیا کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ کسی نبی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ اُس کی جماعت کا نام الہامی طور پر خدا تعالیٰ نے رکھا ہے ۔ لیکن یسعیاہ کہتا ہے کہ پہلے دستوروں کے خلاف ایک نبی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی جماعت کا نام خاص الہام سے رکھے گا ۔ -