انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 156

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۵۶ دیباچهتفسیر القرآن پہچانیں گے اور ذبیحے اور ہدیے گزاریں گے۔ہاں وے خداوند کے لئے منتیں مانیں گے اور ادا کریں گے خدا وند تو مصریوں کو بہت دن تک مارا کرے گا، لیکن وہ انہیں چنگا بھی کرے گا اور وے خداوند کی طرف رجوع ہوں گے اور وہ اُن کی دعا سنے گا اور انہیں صحت بخشے گا۔اُس روز سے مصر سے اسور تک ایک شاہراہ ہوگی اور اسوری مصر میں آویں گے اور مصری اسور کو جائیں گے اور مصری اسوریوں کے ساتھ مل کر عبادت کریں گے اُس روز اسرائیل مصر اور اسور کا میراث ہو گا اور زمین کے درمیان برکت کا باعث ٹھہرے گا کہ ربُ الافواج اُسے برکت بخشے گا اور فرماوے گا۔مبارک ہو مصر میری اُمت۔اسور میرے ہاتھ کی صنعت اور اسرائیل میری میراث‘ - ۱۶۴ اس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے آپ کو مصریوں پر ظاہر کرے گا اور مصری خدا تعالیٰ کو پہچانیں گے اور وہ ذبیحے اور ہدیے گزاریں گے اور مصر اور شام آپس میں ملا دیئے جائیں گے۔شامی مصر میں آجائیں گے اور مصری شام میں جائیں گے اور مصری شامیوں کے ساتھ مل کر عبادت کریں گے۔یہ پیشگوئی بھی بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پوری ہوئی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کچھ عرصہ کے لئے مصری عیسائی ہو گئے تھے لیکن وہ نہایت ہی قلیل عرصہ تھا۔اس کے بعد تیرہ سو سال سے مصر مسلمان چلا آتا ہے۔یسعیاہ کی زبان سے خدا کہتا ہے ” مبارک ہو مصر میری اُمت۔مصریوں سے پوچھو کہ وہ کس کی امت ہیں ؟ آیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یا مسیح کی ؟ پھر لکھا ہے ”مبارک ہوا سور میرے ہاتھ کی صنعت‘۔اسوریوں سے بھی پوچھ کر دیکھ لو کہ وہ آیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں یا مسیح کی اُمت؟ پھر لکھا ہے ” مبارک ہوا سرا ئیل میری میراث“۔اِن علاقوں میں جا کر دیکھ لو اسرائیل کا علاقہ فلسطین کس کی میراث ہے؟ اس وقت زور دے کر وہاں یہود کو داخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر یہودی تو مسیح کی اُمت نہیں۔اس پیشگوئی کو تو مسیح پر چسپاں کیا جا رہا ہے اور مسیحی اب بھی وہاں قلیل ہیں اور مسلمان اب بھی زیادہ ہیں۔اگر یہودی اس ملک پر قابض بھی ہو گئے تو یہ کہا جائے گا کہ عارضی طور پر مسلمانوں کے غلبہ میں اختلال