انوارالعلوم (جلد 20) — Page 152
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۵۲ دیباچہ تفسیر القرآن سال کے برابر ہوگی وہ خدا تعالیٰ کی طرف چڑھنا شروع ہوگا اور اس میں کمزوری اور اضمحلال ہے کے آثار پیدا ہو جائیں گے۔اسلام کی ترقی کا زمانہ قرآن کریم سے بھی اور احادیث سے بھی تین سو سال کا معلوم ہوتا ہے اس میں ہزار سال شامل کیا جائے تو یہ زمانہ تیرہ سو سال کا ہو جاتا کی ہے۔پس سورہ سجدہ کی آیت کو ملا کر اس آیت کے یہ معنی بنتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کیلئے بشیر و نذیر ہونا اور تمام دنیا کی طرف ہونا تیرہ سو سال کے بعد کلی طور پر ثابت ہوگا۔ان آیات میں اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ تیرہ سو سال پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کا کی نزول ہوگا اور مسیح موعود آپ کی اُمت میں سے ہوگا اور چونکہ تمام انبیاء کا وہی آخری موعود ہے جب وہ آپ کی اُمت میں سے ہوگا تو اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ قیامت تک آپ کی شریعت قائم رہنے والی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی اور شخص نہیں آئے گا۔اور چونکہ اُس کے زمانہ میں تبلیغ اسلام پر خاص طور پر زور دیا جائے گا اور اسلام دنیا میں پھیل جائے گا اس لئے یہ امر اور بھی مستحکم ہو جائے گا کہ اسلام کو مٹانے والی کوئی طاقت دنیا میں نہیں اور ہر قوم اور ہر علاقہ کے لوگ اُس کے مخاطب ہیں جو آہستہ آہستہ اُس میں شامل ہو جائیں گے۔پس ابدیت کا باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں۔پانچواں نام آپ کا سلامتی کا شہزادہ " رکھا گیا ہے۔چونکہ شہزادہ بمعنی بادشاہ بھی آتا ہے اس لئے ہم اس کے یہ معنی کر سکتے ہیں کہ وہ سلامتی کا بادشاہ ہوگا۔یہ پیشگوئی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی چسپاں ہوتی ہے۔آپ جس مذہب کے بانی تھے اس کا نام خدا تعالیٰ نے اسلام رکھا تھا یعنی سلامتی۔پس سلامتی کے شہزادے کے معنی ہوں گے اسلام کا بادشاہ۔اور اس کی میں کیا شبہ ہے کہ اسلام کے بادشاہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔اسلام آپ ہی کی لائی ہی ہوئی تعلیم کا نام ہے۔اسلام کے تمام مسائل آپ ہی کی طرف کو ٹتے ہیں اور آپ ہی کے فیصلہ کے مطابق تمام اسلامی عالم میں عمل کیا جاتا ہے۔پس آپ تو سلامتی کے شہزادے ہیں لیکن مسیح سلامتی کا شہزادہ کیونکر کہلا سکتا ہے؟ پھر کسی شخص کو اگر کسی چیز کا شہزادہ کہا جائے تو اس کے ایک یہ بھی معنی ہوتے ہیں کہ وہ چیز اُس میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔اُس کو نہ حکومت ملی نہ اُس نے عفوا ور رافت سے کام لیا۔محض منہ سے کہہ دینا کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو ر,