انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 143

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۴۳ دیباچہ تفسیر القرآن پیش آئیں اور تیروں اور کمانوں سے اُنہوں نے کام لیا۔اُن کے گھوڑے چقماق کی طرح ہو گئے اور اُن کے پہیئے گرد باد ۱۴۰ کی مانند جس کی طرف خود قرآن کریم میں اشارہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والدیت ضَبحًا فَالمُورِيتِ قَدْحًا فَالْمُخِيرَتِ صُبْحًا۔فَاتَرْنَ بِهِ نَفْعًا فَوَسَطنَ به جَمْعًا - ا یعنی ہم قسم کھاتے ہیں اُن اسپ سواروں کی جو تیزی سے دشمن پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں ایسی تیزی سے کہ اُن کے گھوڑوں کے ٹاپوں سے آگ نکلنے لگتی ہے اور اُن کے حملہ سے گردو غبار کا ایک طوفان اُٹھ پڑتا ہے اور وہ ایسی شان اور طاقت کے ساتھ اپنے دشمن کی صفوں میں گھس کر اُسے مغلوب کر لیتے ہیں۔کس طرح لفظ بلفظ اس پیشگوئی کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے۔پھر یہ جو اس پیشگوئی میں کہا ہے کہ وہ زمین کی طرف تاکیں گے اور کیا دیکھتے ہیں کہ اندھیرا اور تنگ حالی ہے اور روشنی اس کی بدلیوں سے تاریک ہو جاتی ہے“۔اسی کی طرف قرآن کریم میں اِن الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ في البرد البَحْرِ ۱۲ تمام دنیا میں خشکی اور تری میں فساد اور خرابی پیدا ہوگئی ہے اور خدا تعالیٰ کے ایک مامور کے ظاہر ہونے کی ضرورت ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔قَدْ انْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ أَيْتِ اللهِ مُبيِّنت ليُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِن الظُّلُمت إلى التَّوْدِ ١٢٣ خدا کا رسول اس لئے آیا ہے کہ دنیا سب کی سب تاریکی میں پڑی ہے اور وہ اس کو تاریکی سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔( ج ) یسعیاہ باب ۸ میں لکھا ہے:۔رب الافواج جو کہے تم اُس کی تقدیس کرو اور اُس سے ڈرتے رہو اور اس کی ہی دہشت رکھو۔وہ تمہارے لئے ایک مقدس ہوگا۔پر اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لئے فکر کا پتھر اور ٹھو کر کھانے کی چٹان اور یروشلم کے باشندوں کے لئے پھندا اور دام ہووے گا۔بہت لوگ اُن سے ٹھوکر کھائیں گے اور گریں گے اور ٹوٹ جائیں گے اور دام میں پھنسیں گے اور پکڑے جائیں گے۔شہادت نامہ بند کر لو اور میرے