انوارالعلوم (جلد 20) — Page 142
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۴۲ دیباچهتفسیر القرآن ڈور کسی جگہ پر ایک جھنڈا کھڑا کرے گا اور اس جھنڈے والا دنیا کی مختلف قوموں کو بلائے گا اور وہ جلدی سے دوڑ کر اُس کے پاس جمع ہو جائیں گی۔وہ لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرنے والے ہوں گے اور غفلت اور ستی سے محفوظ ہوں گے۔اُنہیں لڑائیاں کرنی پڑیں گی۔اُن کے گھوڑوں کے سموں سے آگ نکلے گی اور جب وہ حملہ کرنے کے لئے چلیں گے تو ہوا میں گر داڑے گی۔وہ اپنے شکار پر غالب آجائیں گے اور اُن کے شکار کو کوئی بچانے والا نہیں ہو گا۔وہ ایسا کیوں کریں گے؟ اس لئے کہ وہ دیکھیں گے کہ زمین میں تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور لوگ ایک عظیم الشان انقلاب کے محتاج ہیں۔یہ پیشگوئی گلی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ صرف چسپاں ہوتی ہے بلکہ قرآن کریم میں اس پیشگوئی کے مطابق فلسطین سے دُور یعنی مکہ میں آپ ظاہر ہوئے اور ی آپ کا جھنڈ ا مدینہ میں کھڑا کیا گیا۔آپ ہی تھے جنہوں نے قرآنی الفاظ میں یہ اعلان کیا يَايُّهَا النَّاسُ الّي رَسُولُ اللهِ إلَيْكُمْ جَمِيعًا ۱۳۷ اے انسانو ! میں تمام لوگوں کی طرف خدا کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔آپ ہی کی آواز پر چاروں طرف سے لوگ دوڑ نے لگ گئے اور جلد جلد آپ کے گرد جمع ہو گئے۔مسیح کی زندگی میں تو ایک شخص بھی غیر قوموں میں سے اُس پر ایمان نہیں لایا تھا۔اُس کے سارے کے سارے حواری چالیس پچاس میل کے حلقہ کے اندر رہنے والے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر یمن کے رہنے والے اور نجد کے رہنے والے یہودیوں میں سے بھی اور ایرانیوں میں سے بھی اور عیسائیوں میں سے بھی ایمان لائے اور آپ کے گرد جمع ہو گئے اور اس پیشگوئی کے مطابق اُنہوں نے ایسی قربانیاں اور ان تھک کوششیں کیں کہ دشمن سے دشمن بھی اُن کی قربانیوں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ نے بھی اپنے کلام میں اُن کی نسبت فرمایا ہے رضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ ۱۳۸ اُنہوں نے ایسی قربانیاں کیں کہ خد اُن سے راضی ہو گیا اور وہ خدا سے راضی ہو گئے۔اور پھر قرآن کریم میں اُن کا یوں ذکر بھی آتا ہے کہ منهم من قضى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مِّن يَنتَظِرُ ۱۳۹ کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنے عہد پورے کر دیئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو اپنے عہد کے پورا کرنے کے انتظار میں ہیں۔پھر اُن کو جنگیں بھی