انوارالعلوم (جلد 20) — Page 135
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۳۵ دیبا چه تفسیر القرآن پرا گندہ کر دیا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے ۔ خود آپ نے دعوی فرمایا ہے نُصِرْتُ بِالرُّعْـبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ۱۲۸ خدا تعالیٰ نے مجھے رعب عطا فرما کر میری مدد کی ہے میں جہاں جاؤں ایک مہینہ کے فاصلہ تک دشمن مجھ سے ڈر جاتا ہے ۔ صلى الله پھر لکھا ہے قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اُس کے آگے دھنس گئیں۔ یہ پیشگوئی بھی رسول کریم ﷺ کے ذریعہ ہی ثابت ہوئی، کیونکہ آپ کے دشمن آپ کے مقابلہ میں ہلاک و تباہ ہو گئے اور پہاڑ اور پہاڑیوں سے مراد طاقتور دشمن ہی ہوا کرتے ہیں ۔ پھر لکھا ہے ” میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بیت تھی اور زمین مدیان کے پردے وا کانپ جاتے تھے۔ - اس پیشگوئی سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آنے والا موعود شام سے کسی باہر کے علاقے کا ہوگا اور جب اُس کی فوجیں کیش یا کوشان اور مدائن کے علاقوں کی طرف بڑھیں گی تو اُن علاقوں کی فوجیں اس کی فوجوں کے آگے لرز جائیں گی ۔ اس پیشگوئی کے موعود بھی موسیٰ علیہ السلام نہیں ہو سکتے نہ مسیح علیہ السلام ہو سکتے ہیں یہ پیشگوئی بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی صادق آتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ کی مٹھی بھر فوج آپ کے خلیفہ اول حضرت ابو بکر کے زمانہ میں فلسطین کی طرف بڑھی تو باوجود اس کے کہ کنعان اُس وقت قیصر روما کے ماتحت تھا اور وہ آدھی دنیا کا بادشاہ تھا مسلمانوں کی مٹھی بھر فوج کے آگے قیصر کی فوجیں اس طرح بھاگیں کہ کیش کے خیموں پر آفت آگئی اور زمین مدیان کے پردے کانپ گئے اور ان علاقوں نے اپنی نجات اس بات میں پائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں کے قدموں میں اپنے ہتھیار ڈال دیں۔ چوتھی پیشگوئی ۔ ایک محبوب نبی کا دس ہزار آدمیوں کے ساتھ ظہور حضرت سلیمان فرماتے ہیں ۔ - :۔ (الف) ” میرا محبوب سرخ و سفید ہے ۔ دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے اُس کا سر ایسا ہے جیسا چھو کا سونا ۔ اُس کی زلفیں پیچ در پیچ ہیں اور کوے کی سی کالی ہیں۔ اُس کی آنکھیں اُن کبوتریوں کی مانند ہیں جو لب دریا دودھ