انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 125

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۲۵ دیباچہ تفسیر القرآن ہدایت کی نعمت تمہارے لئے کمال تک پہنچا دی ہے اور امن اور سلامتی کو تمہارا مذہب قرار دے دیا ہے۔پس محمد رسول اللہ ہی تھے جن کو ساری سچائیاں بتائی گئیں اور جنہوں نے دنیا کی کو ساری سچائیاں بتا دیں اور کوئی ایک سچائی بھی نہیں چھپائی۔کیونکہ مسیح کے زمانہ کے لوگ ابھی تک ساری سچائیوں کو سننے اور قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت انسان روحانی ارتقاء کی سب منزلوں کو طے کر چکا تھا اور وقت آ گیا تھا کہ ساری سچائیاں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کا رسول وہ ساری سچائیاں لوگوں کو سُنا دے۔(۶) اس پیشگوئی میں یہ بتایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام جو اُس پر نازل ہوگا وہ خدا کا نام لے کر دنیا کو سنائے گا۔یہ بات بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہی پوری ہوئی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک ایسے نبی ہیں جن کی الہامی کتاب کا ہر باب اس آیت سے شروع ہوتا ہے ” میں اللہ کا نام لے کر یہ باتیں تمہیں سناتا ہوں۔پس یہ علامت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ روحانی ارتقاء کی وہ آخری کڑی جس کی موسیٰ نے خبر دی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات تھی۔(۷) کہا گیا تھا کہ وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے“۔۱۱۶ اس آیت میں موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ دنیا کو یہ بتایا گیا تھا کہ جس نبی کی اس آیت میں خبر دی گئی ہے چونکہ اُس کے لئے انسان کی روحانی ترقی کی آخری کڑی ہونا مقدر ہے اور اگر کوئی جھوٹا شخص اس عہدے کو اپنی طرف سے فریب سے منسوب کرے تو اس سے بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ جو شخص بھی جھوٹے طور پر اس پیشگوئی کو اپنی طرف منسوب کرے گا وہ قتل کیا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہو گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔جب آپ نے دعوی کیا آپ اکیلے تھے ، آپ نہایت ہی کمزور تھے ، دشمن بڑے جتھے والا اور بڑا طاقتور تھا مگر باوجود اس کے کہ دشمنوں نے اپنا سارا زور لگایا وہ آپ کو قتل نہیں کر سکے۔