انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 122

انوار العلوم جلد ۲۰ لعنت سے چھڑایا۔۱۰۸ دیا چه تفسیر القرآن گویا مسیح خود کسی شریعت کے لانے کے مدعی نہیں اور اُن کے حواری شریعت کو ہی لعنت قرار دیتے ہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح اور اُن کی قوم اس پیشگوئی کی مستحق ہو؟ (۲) اس پیشگوئی میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ آنے والا بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہوگا لیکن مسیح تو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے نہیں تھا بلکہ خود بنی اسرائیل میں سے تھا۔بعض عیسائی صاحبان ایسے موقع پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ چونکہ اس کا کوئی باپ نہیں تھا اس لئے وہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے کہلا سکتا ہے۔لیکن یہ دلیل ہرگز معقول نہیں کیونکہ بائبل کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ بھائی بہت ہوں گے اور اُن بہت سے بھائیوں کی نسل میں سے وہ موعود نے ظاہر ہونا تھا۔کیا عیسی علیہ السلام کی قسم کے لوگ بھی بہت سے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر عیسی علیہ السلام پر یہ پیشگوئی کیونکر چسپاں ہوسکتی ہے؟ علاوہ ازیں بائبل میں تو مسیح کی نسبت لکھا ہے کہ وہ داؤد کی نسل میں سے ہوگا ۱۰۹ اگر بن باپ ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح کو بنی اسرائیل میں سے خارج کر دیا جائے تو پھر وہ داؤد کی نسل میں بھی نہیں رہ سکتے اور اس پیشگوئی سے انہیں جواب مل جاتا ہے۔(۳) اس پیشگوئی میں لکھا ہے کہ میں اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا۔لیکن انجیل میں تو خدا کا کلام ہمیں کہیں نظر ہی نہیں آتا۔یا تو اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کے سوانح ہیں یا اُن کی کے بعض لیکچر اور یا پھر حواریوں کی باتیں۔(۴) اس پیشگوئی میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ موعود ایک نبی ہوگا۔مگر مسیح کے متعلق تو مسیحی قوم یہ کہتی ہے کہ وہ خدا کا بیٹا تھا نبی نہیں تھا۔پس جب مسیح نبی ہی نہ تھے تو وہ اس پیشگوئی کے پورا کرنے والے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ (۵) اس پیشگوئی میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ خدا کا نام لے کر اپنا الہام لوگوں کو سنائے گا مگر اناجیل میں تو کوئی ایک فقرہ بھی ہمیں نہیں ملتا جس میں مسیح نے یہ کہا ہو کہ خدا نے مجھے یہ بات لوگوں کو پہنچانے کا حکم دیا ہے۔(۶) اس پیشگوئی میں یہ ذکر ہے۔جو کچھ میں اُسے فرماؤں گا وہ سب اُن سے کہے گا اور ساری