انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 120

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن کنعان کی حکومت دی گئی اور بنو اسمعیل کو اُن کے وعدہ کے مطابق عرب کی حکومت دی گئی۔آخر جب بنو اسحاق کی قیامت آگئی تو داؤد کی پیشگوئی کے مطابق نسلی لحاظ سے نہیں بلکہ راستباز ہونے کے لحاظ سے کنعان پر غلبہ بنو اسمعیل کو دے دیا گیا۔گویا نسلی وعدہ ابراہیم کے مطابق مسلمانوں کو مکہ اور اس کے ارد گرد کا علاقہ ملا۔جس کا دعویٰ قرآن کریم نے سورۃ بقرہ رکوع ۱۵/۱۵ میں کیا ہے اور راستباز ہونے کے لحاظ سے بنو اسحاق کی مذہبی تباہی کے بعد وہ کنعان کے بھی وارث قرار پائے۔دوسری پیشگوئی۔حضرت موسیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب خدا تعالیٰ کے حکم کے بعد ایک شرعی نبی کا ظہور علیہ السلام سے کہا کہ :۔وه سے طور پر گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا“۔۱۰۵ پھر لکھا ہے۔میں اُن کے لئے اُن کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک بنی بر پاکروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے فرماؤں گا وہ سب اُن سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اُس سے لوں گا۔لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔۱۰۶ ان آیتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک نئے صاحب شریعت نبی کی کی پیشگوئی کی گئی تھی جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہوگا۔صاحب شریعت ہونے کی پیشگوئی ان الفاظ سے نکلتی ہے کہ وہ موسیٰ کی مانند ہو گا اور موسیٰ صاحب شریعت نبی تھے۔دوسری خبر اس پیشگوئی میں یہ دی گئی ہے کہ سب باتیں جو اُسے کہی جائیں گی وہ لوگوں سے بیان کر دے گا۔یہ علامت بھی بتاتی ہے وہ صاحب شریعت ہوگا کیونکہ صاحب شریعت نبی قوم کی بنیاد