انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 115

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۱۵ دیباچہ تفسیر القرآن چوتھا سوال اور اُس کا جواب چوتھا سوال جو پہلی کتب کی موجودگی میں قرآن کریم کے نزول کی ضرورت کے متعلق روشنی ڈال سکتا ہے یہ ہے کہ کیا سابق مذاہب اپنی تعلیم کو حتمی اور آخری قرار دے رہے تھے؟ یا وہ خود بھی ایک ارتقاء کے قائل تھے؟ اور روحانیت کی ترقی کے لئے ایک ایسے نقطہ کی خبر دے رہے تھے جس پر جمع ہو کر بنی نوع کو انسانی پیدائش کے مقصد کو حاصل کرنا تھا؟ بائبل میں قرآن مجید کے نزول اور آنحضرت اس سوال کے متعلق یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ انبیاء کی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے متعلق پیشگوئیاں کی ایک مسلسل کڑی جو ہمیں الہی منشاء سے آگاہ کر سکے در حقیقت ہمیں بائبل میں ہی ملتی ہے۔انبیاء کے حالات کو محفوظ رکھنے میں بائبل نے جو کام کیا وہ قرآن کریم سے پہلے اور کسی کتاب نے نہیں کیا اس لئے ہم اس سوال کا جواب دینے کیلئے کہ آیا پہلی کتابیں اپنے بعد کسی اور کتاب کی اور پہلے نبی اپنے بعد کسی اور نبی کی خبر دیتے ہیں یا نہیں جو دنیا میں ہدایت اور راستی کی تعلیم کو مکمل کرنے والا اور بنی نوع انسان کی روحانی ترقی کا آخری نقطہ بننے والا تھا، بائبل پر نظر ڈالتے ہیں۔پہلی پیشگوئی۔حضرت ابراہیم بائبل کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی اولاد علیہ السلام سے خدا تعالیٰ کے بہت سے وعدے ނ وعدہ تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کسدیوں کے اور میں پیدا ہوئے اور وہاں سے اپنے باپ کے ساتھ ہجرت کر کے کنعان کی طرف روانہ ہوئے لیکن اُن کے والد حاران میں آکر ٹھہر گئے۔اُن کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ حاران سے نکل کر کنعان کو روانہ ہوں اور فرمایا:۔” اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گا اور تجھ کو مبارک اور تیرا نام بڑا کروں گا اور