انوارالعلوم (جلد 20) — Page 114
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۱۴ دیبا چه تفسیر القرآن اور پر جاپتی کو ان کا پیدا کرنے والا قرار دے دیا۔ دیوتاؤں کی تعداد کے متعلق اختلاف ہے۔ گو ہم مانتے ہیں کہ وید جب بھی نازل ہوئے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے تھے اور یقیناً وہ توحید کی تعلیم پر مشتمل تھے مگر موجودہ وید وہ نہیں جو کہ شروع میں رشیوں پر نازل ہوئے تھے۔ ان میں کثرت کے ساتھ شرک کی تعلیم پائی جاتی ہے بلکہ اس کثرت کے ساتھ کہ اس نے توحید کی تعلیم کو دبا لیا ہے۔ چنانچہ اس بارہ میں بھی جو تعلیم ویدوں میں بیان ہوئی ہے اُس کی ہم چند مثالیں دیتے ہیں:۔ یجر وید میں لکھا ہے کہ:۔ دیوتا کل ۳۳ ہیں ۔ اا زمین میں ۱۱ آسمان اور اا او پر جنت میں۔ رگوید ۰۹ پر منڈل نمبر ۳ سوکت و منتر ۹ میں لکھا۔ لکھا ہے کل دیوتا ا دیوتا ۳۳۴۰ ہیں ۔ ۳۳۴۰ کی تعداد اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ رگوید کے بیان کے مطابق ۳۳۳۹ دیوتاؤں نے مل کر آگ دیوتا کو گھی سے سینچا اور اُس کے پاس گئے ۔ پس ۳۳۳۹ میں ایک جمع ہوا تو ۳۳۴۰ ہو گئے ۔ چنانچہ رگوید منڈل نمبر ۱۰ سوکت نمبر ۵۲ منتر ۶ میں صاف الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کل دیوتا ۳۳۴۰ ہیں ۔ - ویدوں میں دیوتاؤں کے متعلق اتنا اختلاف حیرت انگیز ہے کہچر ہے بیچر وید میں تو دیوتا ۳۳ قرار دیئے گئے ہیں اور رگوید میں ۳۳۴۰۔ توحید کو چھوڑنا ہی ایک نہایت خطرناک بات تھی مگر جو خیالی دیوتا تجویز کئے گئے ان کی تعداد میں بھی اتنا اختلاف کہ وہ کبھی ۳۳ ہو جاتے ہیں اور کبھی ۳۳۴۰۔ یہ اختلاف یقیناً انسان کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ بے شک جب وید نازل ہوئے ہوں گے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں گے مگر موجودہ وید ہرگز انسان کی روحانیت کو تسلی نہیں دے سکتے اور ان کے بعد اور ان کے باوجود بھی ایک ایسی کتاب کی دنیا کو ضرورت تھی جو ہر قسم کی خلاف اخلاق ، متناقض ، ظالمانہ اور وہموں سے پُر تعلیموں سے پاک ہو اور یہی کتاب قرآن کریم ہے۔