انوارالعلوم (جلد 20) — Page 113
انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن ہی نے نہیں کیا تھا بلکہ انگر ارشی کی اولاد نے یہ کام کیا تھا۔اسی طرح یجروید میں ایک جگہ تو یہ کہانی ہے کہ سورج کو تمام دیوتا اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر لے گئے لیکن دوسری جگہ یہ لکھا ہے کہ سورج کو کیلے ورن دیوتا نے زمین سے اُٹھا کر آسمان پر رکھا۔اتھر و وید اِن سب سے نرالی حکایت بیان کرتا ہے اور اتری رشی کو اس غیر معمولی شان کے کام کے لئے مخصوص کرتا ہے۔۳۔زمین و آسمان کی پیدائش کے متعلق بھی ویدوں نے بعض حقائق بیان کئے ہیں۔لیکن وہ چی حقائق بھی ایک دوسرے سے ایسے ہی مختلف ہیں جیسا کہ جنوں اور پریوں کی کہانیاں آپس می میں مختلف ہوتی ہیں۔سام وید پور دآر چک میں لکھا ہے:۔زمین و آسمان کو کیلے سوم دیوتا نے پیدا کیا تھا۔لیکن رگوید منڈل نمبر ۸ سوکت ۲۶ منتر ۴ میں لکھا ہے:۔زمین و آسمان کو سوم رس پینے والے اکیلے اندر دیوتا نے ہی پیدا کیا تھا“۔مگر اسی رگوید کے منڈل نمبر ۲ سوکت ۴۰ منترا میں لکھا ہے:۔زمین و آسمان کو پوشا د یو تا اور سوم دیوتا دونوں نے مل کر پیدا کیا تھا۔مگر یجروید کہتا ہے کہ:۔زمین و آسمان کو ا کیلے برہما نے پیدا کیا تھا۔منوسمرتی دشت پیچھے برہمن میں لکھا ہے:۔زمین و آسمان کو کیلے پر جاپتی نے ہی پیدا کیا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ منوسمرتی وید نہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہندو قوم اس کو ویدوں کی صحیح تفسیر قرار دیتی ہے اصل ویدوں میں بھی زمین و آسمان کی پیدائش کے متعلق کچھ کم اختلاف نہیں تھا کہ منوجی نے اس اختلاف کو اور بھی اُبھار دیا۔سام وید سوم دیوتا کو زمین و آسمان کی پیدائش کا موجب قرار دیتا ہے لیکن رگوید ایک جگہ اندر دیوتا کو اور دوسری جگہ پوشا دیوتا اور سوم دیوتا کو زمین و آسمان کی پیدائش کا موجب قرار دیتا ہے۔مگر منوجی نے ان تمام ویدوں کی تشریح کرتے ہوئے سوم اور اندر اور پوشا اور برہم سب کو پیدائش کا ئنات سے جواب دے دیا