انوارالعلوم (جلد 20) — Page 103
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۰۳ دیباچہ تفسیر القرآن جس وقت شونک رشی کا چرن دیوہ تصنیف ہوا اُس وقت شاکل سنہتا ( رگوید ) کے ایک لاکھ ۵۳ ہزار آٹھ سو چھبیس لفظ ، چار لاکھ ۳۲ ہزار حروف اور دس ہزار چھ سو بائیس منتر تھے مگر آجکل گنتی کرنے پر یہ تعدا د نہیں ملتی۔۔ڈاکٹر تارا پر چودہری ایم اے۔پی۔ایچ۔ڈی پروفیسر پٹنہ کالج رسالہ گنگا کے دید نمبر بابت ماہ جنوری ۱۹۳۲ ء کے صفحہ ۴ ۷ پر لکھتے ہیں :۔ان کے علاوہ ( ویدوں میں ) ایسے الفاظ بھی ہیں جن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشدھ پاٹھ ( غلط متن ) معلوم ہوتا ہے کہ بولنے والوں اور لکھنے والوں کی خامیوں کے باعث کئی قسم کی غلطیاں واقع ہو گئی ہیں“۔ے۔پنڈت ویدک منی جی اپنی کتاب وید سروسو کے صفحہ ۱۰۵ و۱۰۶ پر لکھتے ہیں :۔گو پتھ براہمن کا زمانہ تصنیف عین وہ زمانہ ہے جبکہ یگوں کا عروج تھا۔اُس زمانہ رگویدی ، یجرویدی، سام ویدی اور اتھرو ویدی ایک دوسرے سے امیٹھے ہوئے تھے اور مختلف قسم کے فرائض اور من گھڑت طریقوں سے یگ وغیرہ کرنے میں محو تھے اور ان میں سے جس جس کو رگوید کے جس قدر منتر مطلوب تھے وہ اُس اُس نے اپنے اپنے وید میں شامل کر لئے تھے اور ہر ایک اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا تھا اور دوسروں سے نفرت کرتا تھا۔یہی نہیں بلکہ شاکھا بھید ( نسخوں) کے اختلاف کے باعث رگویدی رگو یدی سے یجر ویدی یجرویدی سے۔سام ویدی سام ویدی سے اور اتھرو ویدی اتھر و ویدی سے بھی الگ ہو گیا۔واشکل سنہتا والا شاکل سن ہتا ( یہ رگ وید کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں ) ما دھنیدن سنہتا والا کا نوسنہتا ( یہ یجرویدی کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں ) کو تھم سنہتا والا را نائنی سنہتا ( یہ سام وید کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں ) اور شونک سنہتا والا پیلا دسنہتا ( یہ اتھرو وید کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں ) کے پاٹھ (متن) کو سب سے اعلیٰ اور خالص اور دوسری شاکھا ( نسخے ) کے متن کو قطعی بُرا اور غلط کہتا تھا۔آج جو دید کے مختلف نسخوں میں طرح طرح کے اختلافات نظر آتے ہیں یہ ا کثر اُسی بُرے زمانہ میں جنم پائے ہوئے ہیں۔