انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 102

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن کہ بس جو کچھ اس خاتمہ تک چھپا ہوا یا لکھا ہوا ہے وہ سب اتھر و وید سنہتا ہے یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ چھاپنے والا یا لکھنے والا کون اور کتنی قابلیت رکھتا ہے۔“ ۲۔پنڈت مہیش چندر پر شاد بی۔اے سنسکرت ساہتیہ کا انتہاس جلد دوم کے صفحہ ۱۶۰ پر لکھتے ہیں: واجنئی شکل یجر وید سمتا بالکل نئی طرز پر ہے۔اس میں وید اور برہمن بھاگ ( حصے الگ الگ پائے جاتے ہیں۔اس میں چالیس ادھیائے ہیں۔مگر لوگوں کا وشواش ہے کہ اِن میں ۱۸۔اصل ہیں اور باقی بعد میں ملائے گئے ہیں۔ادھیائے اسے ۱۸ تک کا بھاگ تیئستری سنهتاو کرشن یجر روید کے نظم و نثر سے مطابقت رکھتا ہے۔ان ۱۸ ادھیاؤں کے ہر ایک لفظ کی تشریح اُس کے براہمن میں ملتی ہے۔مگر باقی ۱۷ ادھیاؤں کے صرف تھوڑے تھوڑے منتروں پر ہی اس میں ٹپنی ( حواشی ) پائی جاتی ہے۔کا تیائن نے ادھیائے ۲۶ سے ۳۵ تک کو کھل ( ملاوٹ ) کے نام سے لکھا ہے۔ادھیائ ۱۹ سے ۲۵ میں بھی یگیہ کے طریقوں کا ذکر ہے۔یہ تیئستر ی سنہتا سے نہیں ملتے۔۲۶ سے لے کر ۲۹۔ادھیاؤں تک کچھ خاص طور پر انہی یکیوں کے متعلق منتروں کا ذکر ہے جس کے بارہ میں پہلے ادھیاؤں میں بیان ہے اور اس سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ضرور بعد میں دیئے گئے ہیں۔,,۔پنڈت شانتی دیوشاستری رساله گنگا فروری ۱۹۳۱ ء صفحہ ۲ ۲۳ پر لکھتے ہیں:۔پہلے تو آج تک یہ بھی فیصلہ نہیں ہوا کہ وید چار ہیں یا تین۔منوسمرتی اور شت پتھ براہمن کی رو سے رگوید، یجروید اور سام وید۔یہ تین وید ہیں اور واجنئی اپنشد براہمنوا پنیشد اور منڈک اپنشد کی رو سے چاروید ہیں۔۴۔پنڈت ہر دے نرائن ایم۔ایس سی رسالہ گنگا بابت ماہ جنوری ۱۹۳۱ء میں لکھتے ہیں:۔شونک رشی کے چرن دیوہ وغیرہ تصانیف میں وید منتروں اور اُن کے لفظوں اور حرفوں تک کی جو گنتی دی ہوئی ہے وہ موجودہ ویدوں میں نہیں ملتی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں میں کئی منتر ملائے گئے ہیں اور کئی نکالے گئے ہیں“۔۵۔پنڈت شانتی و یو شاستری رساله گنگا بابت ماہ فروری ۱۹۳۱ء صفحہ ۱ ۲۳ پر لکھتے ہیں :۔ہیں:۔