انوارالعلوم (جلد 20) — Page xi
انوار العلوم جلد ۲۰ تعارف کتب تحریر فرمایا ہے جس میں نہایت ہی آسان پیرایہ میں جماعت احمدیہ کا عقائد کے لحاظ سے تعارف کروایا گیا ہے۔اس تعلق میں سب سے پہلے آپ نے مذکورہ بالا سوال کر نیوالوں کو یہ بات سمجھائی ہے کہ احمدیت کوئی نیا مذ ہب نہیں ہے اور نہ ہی احمد یوں کا کوئی الگ کلمہ ہے۔آپ نے تحریر فرمایا کہ دنیا کے تمام مذاہب میں سے صرف اسلام کو یہ فخر اور اعزاز حاصل ہے کہ اس کا ایک کلمہ ہے۔اور احمدیت چونکہ حقیقی دین ہونے کی دعویدار ہے اس لیے جماعت احمدیہ کا کلمہ بھی وہی ہے جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔اس کے بعد حضور نے جماعت احمدیہ کے متعلق عقائد کے لحاظ سے بعض شکوک کا ازالہ فرمایا جس میں ختم نبوت، ملائکہ اللہ ، نجات ، احادیث، تقدیر، جہاد جیسے مسائل کے متعلق جماعت احمدیہ کا نقطہ نظر بیان فرمایا۔اسی طرح اس کتابچہ میں ایک نئی جماعت بنانے کی وجہ اور غرض و غایت بیان فرمائی۔نیز جماعت احمدیہ کے پروگرام پر روشنی ڈالی اور آخر پر احمد یوں کو دوسری جماعتوں سے علیحدہ رکھنے کی وجہ بیان فرمائی۔پس یہ کتا بچہ جماعت احمدیہ کے تعارف کے لحاظ سے انتہائی لاجواب ہے جسے ہمیں کثرت سے دوسروں کو پڑھانا چاہیے۔(۶) ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام حضرت مصلح موعود نے ۱۹۴۸ء کے جلسہ سالا نہ ہندوستان کے موقع پر ہندوستان کے احمدیوں کے نام جو پیغام ۲۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کوتحریر کر کے ارسال فرمایا اس پیغام کواب انوار العلوم کی اس جلد نمبر ۲۰ میں شامل اشاعت کیا جا رہا ہے۔اس پیغام کے آغاز میں حضور نے اس جلسہ سالانہ کے منعقد کرنے پر جماعت احمد یہ بھارت کو ھدیہ تبریک پیش کیا۔اس کے بعد فرمایا کہ جماعتیں صدمات میں سے گذرے بغیر کبھی بڑی جماعتیں نہیں بن سکتیں۔(حضور کا اس میں دراصل پارٹیشن کی طرف اشارہ تھا) پارٹیشن کے نتیجہ میں جو جماعتی نقصان ہوا اُس کے ذکر کے بعد حضور نے ہندوستان کے احمدیوں کو اُس وقت