انوارالعلوم (جلد 20) — Page 94
انوار العلوم جلد ۲۰ ۹۴ فسیر القرآن نہیں کر سکتا۔از ماما نا پڑتا ہے کہ یہ آیات بعد میں بنا کر انجیل میں داخل کی گئی ہیں۔ج۔انجیل میں لکھا ہے مسیح مردے زندہ کیا کرتے تھے اور مردے واپس شہر میں آکر داخل ہو جایا کرتے تھے۔چنانچہ یوحنا باب ۱۱ آیت ۴۳ ۴۴ میں لکھا ہے اور وہ یہ کہہ کر بلند آواز سے چلایا کہ اے لعز ر باہر نکل ! تب وہ جو مر گیا تھا کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اور اُس کا چہرہ گرداگر درو مال سے لپٹا ہوا تھا۔اسی طرح لکھا ہے۔”دیکھو ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ گیا اور زمین کا نپی اور پتھر تڑک گئے اور قبریں کھل گئیں اور بہت لاشیں پاک لوگوں کی جو آرام میں تھے اُٹھیں اور اُٹھنے کے بعد قبروں سے نکل کر اور مقدس شہر میں جا کر بہتوں کو نظر آئیں۔۸۶ کیا کوئی عقلمند ان باتوں کو تسلیم کر سکتا ہے؟ اگر مردے پہلے زندہ ہوتے تھے تو اب کیوں نہیں ہوتے ؟ اگر کہو کہ یہ مسیح کی علامت تھی تو یہ غلط ہے۔مسیح کہتے ہیں اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو تو جو نشانات میں نے دکھائے ہیں اُن سے بہتر نشانات تم دکھا سکتے ہو۔چنانچہ یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۲۔۱۳ میں لکھا ہے:۔میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا اور اُن سے بھی بڑے کام کرے گا۔کیونکہ میں اپنے باپ پاس جاتا ہوں اور جو کچھ تم میرے نام سے مانگو گے وہی کروں گا تا کہ باپ بیٹے میں جلال پاوے۔اگر تم میرے نام سے کچھ مانگو گے تو میں وہی کروں گا“۔مگر کیا اس پیشگوئی کے مطابق اب بھی عیسائی مردوں کو زندہ کرتے ہیں؟ د متی باب ۱۴ آیت ۲۵ تا ۲۷ میں لکھا:۔اور رات کے پچھلے پہر یسوع دریا پر چلتا ہوا اُن کے پاس آیا۔جب شاگردوں نے اسے دریا پر چلتے دیکھا وے گھبرا کے کہنے لگے یہ بھوت ہے اور ڈر سے چلائے۔وہیں یسوع نے انہیں کہا کہ خاطر جمع رکھو میں ہوں۔مت ڈرو“۔یہ بھی ایک وہم ہے جس کا انجیل میں ذکر کیا گیا ، ورنہ پانی پر کون چل سکتا ہے۔