انوارالعلوم (جلد 20) — Page 92
انوار العلوم جلد ۲۰ ۹۲ دیبا چه تفسیر القرآن کڑاڑے پر سے دریا میں کودا اور وے قریب دو ہزار کے تھے جو دریا میں ڈوب کر مر گئے اور وے جو سؤروں کو چراتے تھے بھاگے اور شہر اور دیہات میں خبر پہنچائی ۔ تب وے اس ماجرے کو دیکھنے نکلے۔ ان آیات میں اس قدر وہم کی باتیں جمع کر دی گئی ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے ۔ اوّل یہ کہ ایک شخص اتنا پاگل اور مضبوط تھا کہ کسی قسم کی زنجیریں اُس کو جکڑ نہیں سکتی تھیں ۔ وہ ہر قسم کی زنجیریں توڑ دیتا تھا۔ کیا کوئی انسان اس قسم کا ہو سکتا ہے جو ہر قسم کی زنجیریں توڑ دے؟ ہاں یہ ممکن ہے کہ اُس زمانہ میں لوگوں کو زنجیریں بنانی نہ آتی ہوں اور وہ گھڑیوں کی زنجیروں جیسی کمزور زنجیروں سے لوگوں کو باندھتے ہوں ۔ پھر لکھا ہے۔ وہ دیوانہ اپنے تئیں پتھروں سے کا ٹتا تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص متواتر سالہا سال سے اپنے آپ کو پتھروں سے کاٹتا تھا اور پھر بھی وہ مرتا نہیں تھا۔ پھر لکھا ہے ۔ مسیح نے اُس شخص کو کہا کہ اے نا پاک روح ! اس آدمی میں سے نکل آ ۔ یہ تو پہاڑی اور جاہل علاقوں کے خیالات ہیں نہ کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسول کے خیالات ۔ اگر اس قسم کی بدروحیں لوگوں میں آیا کرتی تھیں تو اب کیوں نہیں آتیں؟ اور کون سے ایسے ذرائع ہیں جن سے ایسی بدروحوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ جس چیز کو آج ڈاکٹروں نے ”نیورس تھی نیا یا ہسٹیریا یا جنون قرار دیا ہے اس کو پرانے زمانے کے نا اقف لوگ بدروحیں قرار دیتے تھے ۔ مگر انجیل یہ بتاتی ہے کہ حضرت مسیح جیسا سنجیدہ اور استباز اور عقلمند انسان بھی ان جاہلوں کی طرح یہ کہتا تھا کہ مجنونوں کے اندر کوئی بد روح داخل ہو جاتی ہے ۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ - خدا تعالیٰ کے ایک راستباز پر یہ کتنا بڑا الزام ہے ۔ اپنی تو ہم پرستی کو دنیا کے ایک عظیم الشان رہنما کی طرف منسوب کر دینا یقینا ایک بہت بڑا ظلم ہے مسیح خود ایسی بات نہیں کر سکتا تھا اور نہ اُس کے حواری ایسی بات کر سکتے تھے ۔ یقیناً یہ بعد کے جہال کی داخل کی ہوئی بات ہے جنہوں نے انجیل کو اُس کے حقیقی معیار سے نیچے گرادیا۔ پھر آگے چل کر اس وہم کو اور بھی پکا کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسیح نے بد روح سے اُس کا نام پوچھا تو اُس نے کہا ” میرا نام تمن ہے اس لئے کہ ہم بہت ہیں۔ گویا ایک روح اتفاقی طور