انوارالعلوم (جلد 20) — Page 91
انوار العلوم جلد ۲۰ ۹۱ دیباچہ تفسیر القرآن ہوتا یا الف لیلیٰ کی مانند ہوتا تو اس قسم کی باتیں قابل اعتراض نہ ہو تیں لیکن نیا عہد نامہ تو لوگوں کی کی مذہبی اور روحانی رہنمائی کیلئے ہے اس میں اس قسم کی کہانیوں کا کیا مطلب؟ ہم مسیح ناصری جیسے نیک اور پاک آدمی کی نسبت کسی صورت میں بھی یہ نہیں مان سکتے کہ اُس نے ایسی باتیں کہی ہوں۔وہ خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ رسول تھا اور دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آیا تھا۔کیا تو یہ ممکن ہے کہ ایسا پاکیزہ انسان دنیا کو ایسی باتیں بتاتا جو اُس کو جادہ اعتدال سے پھرا دیں کی اور وہم میں مبتلا کر دیں۔پس یہ باتیں یقیناً بعد میں داخل کی گئی ہیں اور ان کی ذمہ داری مسیح پر نہیں اور نہ اُس کے حواریوں پر ہے بلکہ بعد میں آنے والے ایسے عیسائیوں پر ہے جن کی روحانیت مرچکی تھی اور جولوگوں کی واہ وا کو صداقت اور راستی پر ترجیح دیتے تھے۔" (ب) مرقس باب ۵ آیت ۱ تا ۱۴ میں لکھا ہے۔” اور وے دریا کے پار گدر بینیوں کے ملک میں پہنچے اور جونہی وہ کشتی سے اُترے وہیں ایک آدمی جس میں ایک ناپاک روح تھی قبروں سے نکلتے ہوئے اُسے ملا اور وہ قبروں کے درمیان رہا کرتا تھا اور کوئی اُسے زنجیروں سے بھی جکڑ نہ سکتا تھا۔کیونکہ وہ بار بار بیٹریوں اور زنجیروں سے جکڑ ا گیا تھا۔لیکن اُس نے زنجیروں کو توڑا اور بیٹریوں کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اور کوئی اُسے قابو میں نہ لا سکا۔وہ ہمیشہ رات دن پہاڑوں اور قبروں کے بیچ چلایا کرتا اور اپنے تئیں پتھروں سے کا تھا تھا۔پر جونہی اُس نے یسوع کو دور سے دیکھا دوڑا اور اُسے سجدہ کیا اور بُری آواز سے چلا کے کہا۔اے خدا تعالیٰ کے بیٹے یسوع ! مجھے تجھ سے کیا کام ! تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں مجھے نہ ستا۔کیونکہ اُس نے کہا تھا کہ اے ناپاک روح اس آدمی سے نکل آ۔پھر اُس سے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ تب اُس نے جواب دیا کہ میرا نام تمن ہے اس لئے کہ ہم بہت ہیں۔پھر اُس نے اُس کی بہت منت کی کہ ہمیں اس سرزمین سے مت نکال اور وہاں پہاڑوں کے نزدیک ایک سوروں کا غول چرتا تھا۔سوسب دیووں نے اُس کی منت کر کے کہا کہ ہم کو اِن سؤروں کے درمیان بھیج تا کہ ہم اُن میں بیٹھیں۔یسوع نے انہیں فی الفور ا جازت دی اور وے ناپاک روحیں نکل کر سوروں میں بیٹھ گئیں اور وہ غول