انوارالعلوم (جلد 20) — Page 71
انوار العلوم جلد ۲۰ اے دیباچهتفسیر القرآن اقوال پر مسیح یہودی النسل انسان تھے اور ان کے حواری بھی یہودی النسل تھے۔اس لئے اگر مسیح کا کوئی قول اپنی اصل شکل میں محفوظ ہو سکتا ہے تو عبرانی زبان میں۔اور اگر ان کے حواریوں کا کوئی قول اپنی شکل میں محفوظ ہو سکتا ہے تو وہ بھی عبرانی زبان میں ہی محفوظ ہوسکتا ہے۔لیکن انجیل کا کوئی نسخہ پرانی عبرانی زبان میں محفوظ نہیں ہے بلکہ انا جیل تمام کی تمام یونانی زبان میں ہیں۔عیسائی پادری اس عظیم الشان نقص کو چھپانے کے لئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ اُس کی زمانہ میں لوگوں کی زبان یونانی ہوگئی تھی لیکن کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ تو میں اپنی زبان آسانی سے نہیں چھوڑا کرتیں بلکہ وہ اپنی زبان کو ایسا ہی قیمتی ورثہ مجھتی ہیں جیسا کہ جائیداد و املاک کو مشرقی یورپ کی درجنوں قومیں روس کے ماتحت تین تین چار چار سو سال سے چلی آئیں ہیں لیکن اب تک ان کی زبانیں موجود ہیں۔الجزائر اور مراکش پر فرانس اور سپین کا قبضہ ایک لمبے عرصے سے چلا آیا ہے، مگر باوجود اس کے وہاں کے لوگوں کی زبان عربی ہے۔ان قوموں کو بھی نظر انداز کر دوخود یہودیوں کو ہی لے لو۔حضرت مسیح کے زمانہ پر ساڑھے انیس سو سال گزر جانے کے بعد بھی انہوں نے اپنی زبان پوری طرح نہیں چھوڑی۔اب بھی یورپ اور امریکہ کے مختلف ممالک کے رہنے والے یہودی پذش (YIDDISH) زبان بولتے ہیں جو مختلف ممالک کی بگڑی ہوئی یہودی زبان ہے۔اگر اُنیس سو سال کی رہائش جو کلی طور پر دوسری اقوام کے ماحول میں گزری ہے وہ بھی یہودیوں کی زبان نہیں مٹا سکی تو ایک قلیل عرصہ کی اطالوی صحبت یہود کی زبان کو کس طرح بدل سکتی ہے؟ یا د رکھنا چاہئے کہ اطالوی حکومت فلسطین میں حضرت مسیح سے صرف چالیس سال پیشتر شروع ہوئی تھی اور یہ اتنا لمبا عرصہ نہیں جس میں کوئی قوم اپنی زبان کو چھوڑ دے۔لیکن اس کے علاوہ یہ باتیں بھی یا درکھنے کے قابل ہیں کہ :۔ا۔تاریخی قو میں اپنی زبان کو کبھی نہیں چھوڑا کرتیں اور یہودی ایک تاریخی قوم ہے۔ب۔یہودیوں کا مذہب عبرانی زبان میں تھا اس لئے اس زبان کو چھوڑنا ان کے لئے بالکل نا ممکن تھا۔ج۔یہودی لوگ تہذیب و شائستگی کے لحاظ سے اپنے آپ کو اطالوی قوم سے کم نہیں سمجھتے تھے بلکہ بالا سمجھتے تھے اس لئے بھی یہودی اپنی زبان کے چھوڑنے پر تیار نہیں ہو سکتے تھے۔