انوارالعلوم (جلد 20) — Page 54
انوار العلوم جلد ۲۰ کوئی اور ہی شخص ہوں۔۵۴ دیباچہ فیسیر القرآن دوسری اندرونی دلیل اس بات کی کہ موجودہ تو رات حضرت موسیٰ کے بعد لکھی گئی اور اُس میں دوسرے لوگوں کی تحریر میں بھی شامل ہیں یہ ہے کہ پیدائش باب ۱۴ آیت ۱۴ میں لکھا ہے:۔” جب ابرام نے سنا کہ میرا بھائی گرفتار ہوا تو اُس نے اپنے ساتھ سیکھے ہوئے تین سو اٹھارہ خانہ زادوں کو لے کر دان تک ان کا تعاقب کیا۔لیکن قاضیوں باب ۱۸ آیت ۲۷ تا ۲۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر جس کا نام پیدائش میں دان" آیا ہے پہلے لیس کہلا تا تھا لیکن موسیٰ کے کوئی ۸۰ سال بعد اس شہر کو فتح کر کے اس کا نام وو دان“ رکھا گیا۔چنانچہ لکھا ہے: وہ میکاہ کی بنوائی ہوئی چیزوں کو اور اس کا ہن کو جو اس کے ہاں تھا لے کرلیس میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو امن اور چین سے رہتے تھے اور ان کو تہہ تیغ کیا اور شہر جلا دیا اور بچانے والا کوئی نہ تھا۔کیونکہ وہ صیدا سے دور تھا اور یہ لوگ کسی سے سرو کا رنہیں رکھتے تھے اور وہ شہر بیت رحوب کے پاس کی وادی میں تھا۔پھر انہوں نے وہ شہر بنایا اور اس میں رہنے لگے اور اس شہر کا نام اپنے باپ دان کے نام پر جو اسرائیل کی اولا د تھا دان رکھا۔لیکن پہلے اس شہر کا نام لیس تھا۔پس جو نام حضرت موسی کے ۸۰ سال بعد رکھا گیا تھا وہ موسیٰ کی کتاب میں کس طرح آسکتا تھا ؟ اس حوالہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ کی کتاب میں ان کی وفات کے بعد دخل اندازی ہوتی رہی اور بعض لوگوں نے اپنے زمانہ کے خیالات اور افکار اس میں داخل کر دیئے۔یہ تغیر و تبدل صرف موسیٰ کی کتابوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دوسری کتابوں کا بھی یہی حال ہے۔چنانچہ یشوع کی کتاب کے باب ۲۴ آیت ۲۹ میں لکھا ہے:۔اور ایسا ہوا کہ بعد ان باتوں کے نون کا بیٹا یشوع خداوند کا بندہ جو ایک سو دس برس کا بوڑھا تھا رحلت کر گیا۔اسی طرح ایوب کی کتاب باب ۴۲ آیت ۱۷ میں لکھا ہے۔اور ایوب بوڑھا اور عمر دراز ہو کے مر گیا۔