انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 590

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۹۰ احمدیت کا پیغام آتا ہے۔خدا تعالیٰ کو ہاتھوں سے نہیں چھوا جاتا ، خدا تعالیٰ کو محبت سے چھوا جاتا ہے۔پس مذہب کی غرض یہ نہیں کہ وہ صرف آنکھ اور ہاتھ پر حکومت کرے بلکہ جب بھی وہ آنکھ اور ہاتھ پر حکومت کرتا ہے تو وہ دل اور جذبات کو صاف کرنے کے لئے حکومت کرتا ہے تا کہ وہ قو تیں انسان کے اندر پیدا ہوں جن سے وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ سکے اور جن سے وہ خدا تعالیٰ کو چھو سکے اور وہ قوتیں پیدا ہوں کہ جن سے وہ خدا تعالیٰ کی آواز کو سن سکے۔غرض ان باتوں پر زور دے کر آپ نے ایک راستہ اسلام کی ترقی کے لئے کھول دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ گو ایک چھوٹی سی جماعت پیدا ہوئی مگر ایک جماعت ایسی پیدا ہوگئی جس نے دین کو دنیا پر مقدم کرلیا اور اسلام کی روحانی کی ترقی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی بادشاہت کے قیام کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنی کی شروع کر دی۔آپ لوگ سوچیں تو سہی کہ کہاں احمدیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت اور کہاں تمام مسلمانوں کا عظیم الشان گروہ لیکن اسلام کی اشاعت اور اس کی ترقی کے لئے جو کچھ احمد یہ جماعت کر رہی ہے کیا باقی مسلمان جو ان سے ہزاروں گنا زیادہ ہیں ان سے نصف یا چوتھا حصہ بھی کر رہے ہیں ؟ آخر یہ تبدیلی کیوں ہوئی ؟ اسی لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے احمدیوں پر زور دیا تھا کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں۔یہ حقیقت احمد یوں پر کھل گئی تو ان کے اعمال ایک نئے قسم کے اعمال ہو گئے۔ایک بچے احمدی کی نماز وہ نماز نہیں جیسی ایک عام مسلمان نماز پڑھتا ہے۔شکل وہی ہے ، کلمات وہی ہیں لیکن مغز اور ہے۔احمدی نماز کو نماز کی خاطر پڑھتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق بڑھانے کے لئے پڑھتا ہے۔شاید کوئی کہے کہ کیا باقی لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق بڑھانے کے لئے نماز نہیں پڑھتے ؟ میرا جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس وقت مسلمانوں میں بدقسمتی سے یہ خیال کی پیدا ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ براہ راست تعلق پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔مسلمانوں کو عام طور پر یہ غلطی لگ رہی ہے کہ نہ خدا تعالیٰ آج بندوں سے بولتا ہے اور نہ بندے خدا تعالیٰ سے کوئی بات منوا سکتے ہیں۔ایک صدی سے زیادہ عرصہ گذرا کہ الہام الہی کے نزول سے مسلمان منکر ہو چکے ہیں۔بیشک اس سے پہلے مسلمانوں میں وہ لوگ موجود تھے جو کلامِ الہی کے نازل ہوتے رہنے کے قائل