انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 578

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۷۸ احمدیت کا پیغام کہ وہ اس نکتہ پر غور کریں اور سوچیں کہ اسلام کو پھر ایک جماعت بنانے کا وقت آچکا ہے اس کام کے لئے کب تک انتظار کیا جائے گا؟ مصر کی حکومت اپنی جگہ پر کام اپنا کر رہی ہے۔ایران کی حکومت اپنی جگہ پر اپنا کام کر رہی ہے افغانستان کی حکومت اپنی جگہ پر اپنا کام کر رہی ہے۔دیگر اسلامی حکومتیں اپنی اپنی جگہ پر اپنا کام کر رہی ہیں لیکن ان کی موجودگی میں بھی ایک خلا باقی ہے۔ایک کمی باقی ہے اور اسی خلا اور کمی کو پورا کرنے کے لئے احمد یہ جماعت قائم ہوئی ہے۔جب خلافت ترکیہ کو ترکوں نے ختم کر دیا تو مصر کے بعض علماء نے ( بعض راز داروں کے قول کے مطابق شاہ مصر کے اشارہ سے ) ایک تحریک خلافت شروع کی اور اس تحریک سے اس کا ی منشاء یہ تھا کہ شاہ مصر کو خلیفہ المسلمین تصور کر لیا جائے اور اس طرح مصر کو دوسرے ممالک پر فوقیت حاصل ہو جائے۔سعودی عرب نے اس کی مخالفت شروع کی اور یہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ یہ تحریک انگریزوں کی اُٹھائی ہوئی ہے اگر کوئی شخص خلافت کا مستحق ہے تو وہ سعودی عرب کی کا بادشاہ ہے۔جہاں تک خلافت کا تعلق ہے وہ یقیناً ایک ایسا رشتہ ہے جس سے سب مسلمان اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن جب یہ خلافت کا لفظ کسی خاص بادشاہ کے ساتھ مخصوص ہونے لگا تو دوسرے بادشاہوں نے فوراً تاڑ لیا کہ ہماری حکومت میں رخنہ ڈالا جاتا ہے اور وہ مفید تحریک بریکار ہو کر رہ گئی۔لیکن اگر یہی تحریک عوام میں پیدا ہو اور مذہبی روح اس کے پیچھے کام کر رہی ہو تو سیاسی رقابت اس کے رستہ میں حائل نہیں ہوگی۔صرف جماعتی رقابت اس کے رستہ میں روک بنے گی۔سیاسی رقابت کی وجہ سے ایسی تحریک اُسی ملک میں محدود ہو کر رہ جائے گی جس کی تی حکومت اُس کی تائید میں ہوگی لیکن جماعتی مخالفت کی صورت میں وہ کسی ملک میں محدود نہیں رہے گی۔ہر ملک میں جائے گی اور پھیلے گی اور اپنی جڑیں بنائے گی بلکہ ایسے ملکوں میں بھی جا کر کامیاب ہوگی جہاں اسلامی حکومت نہیں ہوگی کیونکہ سیاسی ٹکراؤ نہ ہونے کی وجہ سے ابتدائی زمانہ میں حکومتیں اس کی مخالفت نہیں کریں گی چنانچہ احمدیت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔احمدیت کا منشاء محض مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا تھا۔وہ بادشاہت کی طالب نہیں تھی۔وہ حکومت کی طالب نہیں تھی۔انگریزوں نے اپنے ملک میں بعض دفعہ احمدیت کو تکلیفیں بھی پہنچائی ہیں لیکن اس کے خالص مذہبی ہونے کی وجہ سے اس سے کھلے بندوں ٹکرانے کی ضرورت نہیں