انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 575

انوار العلوم جلد ۲۰ احمدیت کا پیغام آبادی جماعت تھی۔کیونکہ نہ انہوں نے متحد ہو کر کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور نہ ان کا کوئی متحدہ پروگرام تھا۔پس اس قسم کا سوال کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا اس وقت مسلمان کوئی قسم جماعت ہیں؟ کیا دنیا کے مسلمان تمام معاملات میں آپس میں مل کر کام کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں یا ان کا کوئی متحدہ پروگرام ہے؟ جہاں تک ہمدردی کا سوال ہے میں مانتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق ہمدردی ہے مگر وہ بھی سارے مسلمانوں میں نہیں۔کچھ کے دلوں میں ہے اور کچھ کے دلوں میں نہیں اور پھر کوئی ایسا نظام موجود نہیں جس کے ذریعہ سے اختلاف کو مٹایا جا سکے۔اختلاف تو جماعت میں بھی ہوتا ہے بلکہ نبیوں کے وقت کی جماعت میں ہے بھی ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی بعض دفعہ انصار اور مہاجرین کا اختلاف ہو گیا اور بعض دفعہ بعض دوسرے قبائل میں اختلاف ہو گیا لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تو اُس وقت سب اختلاف مٹ گیا۔اسی طرح خلافت کے ایام میں بھی اختلاف پیدا ہو جاتا تھا لیکن جب کوئی اختلاف پیدا ہوتا خلفاء فیصلہ کرتے اور وہ اختلاف مٹ جاتا۔خلافت کے ختم ہونے کے بعد بھی کوئی ۷۰ سال مسلمان ایک حکومت کے نیچے جہاں جہاں بھی مسلمان تھے وہ ایک نظام کے تابع تھے۔وہ نظام بُرا تھا یا اچھا تھا بہر حال اس نے مسلمانوں کو ایک رشتہ سے باندھ رکھا تھا۔اس کے بعد اختلاف ہوا اور مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔سپین کا ایک حلقہ بن گیا اور باقی دنیا کا ایک حلقہ بن گیا۔یہ اختلاف تو تھا مگر بہت ہی محدود اختلاف تھا۔دنیا کے مسلمانوں کا بیشتر حصہ پھر بھی ایک نظام کے نیچے چل رہا تھا۔مگر تین سو سال گذرنے کے بعد یہ انتظام ایسا ٹوٹا کہ تمام مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو گیا اور ان میں تشتت اور پراگندگی پیدا ہو گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا که خَيْرُ الْقُرُون قَرُنِى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُوُا الْكَذِبُ اسب سے اچھی صدی میری ہے ان سے اُتر کر وہ لوگ ہوں گے جو دوسری صدی میں ہوں گے اور ان سے اُتر کر وہ لوگ ہوں گے جو تیسری صدی میں ہوں گے۔پھر دنیا میں سے سچائی مٹ جائے گی اور ظلم و تشدد اور اختلاف کا دور دورہ ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا اور پھر یہ اختلاف بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ گذشتہ تین صدیوں میں تو مسلمان اپنی طاقت بالکل ہی کھو بیٹھے۔کجاوہ وقت تھا کہ