انوارالعلوم (جلد 20) — Page 569
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۶۹ احمدیت کا پیغام بعض لوگ احمدیت کے متعلق اس غلط فہمی نجات کے متعلق احمدیوں کا عقیدہ میں چنگا ہیں کہ احمد یہ عقیدہ کی رو سے مبتلا احمدیوں کے سوا باقی تمام لوگ جہنمی ہیں۔یہ بھی محض ناواقفیت یا دشمنی کا نتیجہ ہے۔ہمارا ہر گز یہ عقیدہ نہیں کہ احمدیوں کے سوا باقی تمام لوگ جہنمی ہیں۔ہمارے نزدیک یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی احمدی ہو لیکن وہ جہنمی ہو جائے جس طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی احمدی نہ ہو اور وہ جنت میں چلا جائے کیونکہ جنت صرف منہ کے اقرار کا نتیجہ نہیں جنت بہت سی ذمہ واریوں کو پورا کرنے کے نتیجہ میں ملتی ہے۔اسی طرح دوزخ صرف منہ کے انکار کا نتیجہ نہیں بلکہ دوزخ کا شکار بننے کے لئے بہت سی شرطیں ہیں۔کوئی انسان دوزخ میں نہیں جاسکتا جب تک اس پر حجت تمام نہ ہو۔خواہ وہ بڑی سے بڑی صداقت ہی کا منکر کیوں نہ ہو۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بچپن میں مرجانے والے یا بلند پہاڑوں میں رہنے والے یا جنگلوں میں رہنے والے یا اتنے بڑھے جن کی سمجھ ماری گئی ہو یا پاگل جو عقل سے کورے ہوں ان لوگوں سے مواخذہ نہیں ہوگا بلکہ خدا تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کی طرف دوبارہ نبی مبعوث فرمائے گا اور ان کو سچ اور جھوٹ کو پہنچانے کا موقع دیا جائے گا۔تب جس پر حجت تمام ہوگی وہ دوزخ میں جائے گا اور جو ہدایت کو قبول کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔پس یہ غلط ہے کہ احمدیوں کے نزدیک ہر وہ شخص جو احمدیت میں داخل نہیں ہوتا دوزخی ہے۔نجات کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کی کہ ہر وہ شخص جو صداقت کے سمجھنے سے گریز کرتا ہے اور یہ کوشش کرتا ہے کہ صداقت اس کے کان میں نہ پڑے تا کہ اسے ماننی نہ پڑے یا جس پر حجت تمام ہو جائے مگر پھر بھی ایمان نہ لائے خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔لیکن ایسے شخص کو بھی اگر خدا تعالیٰ چاہے تو معاف کر سکتا ہے۔اس کی رحمت کی تقسیم ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ایک غلام اپنے آقا کوسخاوت سے باز نہیں رکھ سکتا۔خدا تعالیٰ ہمارا آتا ہے اور ہمارا بادشاہ ہے اور ہمارا خالق ہے اور ہمارا مالک کی ہے۔اگر اس کی حکمت اور اس کا علم اور اس کی رحمت کسی ایسے شخص کو بھی بخشنا چا ہے جس کی عام حالات کے مطابق بخشش ناممکن نظر آتی ہو تو ہم کون ہیں جو اس کے ہاتھ کو روکیں اور ہم کون ہیں جو اس کو بخشش سے باز رکھیں۔