انوارالعلوم (جلد 20) — Page 547
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۴۷ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں۔۔۔۔قائم ہوگی سے کام لیا گیا کہ اس زمین کے متعلق انہوں نے لکھا کہ حکومت کو پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ مل رہا تھا اور کئی مسلمان انجمنیں اُسے یہ روپیہ پیش کر رہی تھیں مگر حکومت نے یہ ٹکڑہ برائے نام قیمت پر کی احمدیوں کو دے دیا۔گویا ان کے حساب سے پندرہ لاکھ روپیہ اس ٹکڑے کا حکومت کو مل رہا تھا مگر حکومت نے اس کی پرواہ نہ کی۔جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے فوراً اعلان کرا دیا کہ پاکستان کا اتنا نقصان ہم برداشت نہیں کر سکتے اگر اتنا روپیہ دے کر کوئی شخص یہ زمین خرید سکتا ہے تو وہ اب بھی ہم سے یہ زمین اتنی قیمت پر لے لے تو یہ سارے کا سارا روپیہ حکومت پاکستان کو دے دیں گے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ تو کجا پندرہ روپیہ فی ایکٹر بھی کوئی شخص دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔گورنمنٹ نے خود اپنے گزٹ میں اس کے متعلق متواتر اعلان کرایا مگر ا سے پانچ روپیہ فی ایکٹر کی بھی کسی نے پیشکش نہ کی۔غرض اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہم قادیان سے باہر آئے ہیں اور اسی کے منشاء کے ماتحت ہم یہاں ایک نیا مرکز بسانا چاہتے ہیں۔ہر چیز میں روکیں حائل ہوسکتی ہیں اس لحاظ سے ممکن ہے ہمارے اس ارادہ میں بھی کوئی روک حائل ہو جائے لیکن ہمارا ارادہ اور ہماری نیت یہی ہے کہ ہم پھر ایک مرکز بنا کر اسلام کے غلبہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کام میں ہمارا حامی و مددگار ہو۔ہم نے اس کی وادی غیر ذی زرع کو جس میں فصل اور سبزیاں نہیں ہوتیں اس لئے چنا ہے کہ ہم یہاں بسیں اور کی اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کریں مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ساری فصلیں اور سبزیاں اور ثمرات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔پس اول تو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہماری نیتوں کو صاف کرے اور ہمارے ارادوں کو پاک کرے اور پھر ہم اُسی سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ مکہ مکرمہ کے ظل کے طور پر اور مکہ مکرمہ کے موعود کے طفیل ہم کو بھی اس وادی میں ہر قسم کے ثمرات پہنچاوے گا۔ہماری روزیاں کسی بندے کے سپرد نہیں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اپنے پاس سے ہم کو کھلائے گا اور ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ یہاں کے رہنے والوں میں دین کا اتنا جوش پیدا کر دے، دین کی اتنی محبت پیدا کر دے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا عشق پیدا کر دے کہ وہ پاگلوں کی طرح دنیا میں نکل جائیں اور اُس وقت تک گھر نہ لوٹیں جب تک دنیا کے کونے