انوارالعلوم (جلد 20) — Page 545
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۴۵ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم ہوگی ایسی ہے جو بالکل بنجر اور غیر آباد ہے اور صدیوں سے بنجر اور غیر آباد چلی آتی ہے۔یہاں کوئی تی کھیتی نہیں ہو سکتی ، کوئی سبزہ دکھائی نہیں دیتا، کوئی نہر اس زمین کو نہیں لگتی۔اس کے مقابلہ میں میں نے خود مظفر گڑھ میں نہر والی زمین آٹھ روپیہ ایکٹر پر خریدی تھی بلکہ اس مظفر گڑھ میں ایک لاکھ ایکڑ زمین میاں شاہ نواز صاحب نے آٹھ آنے ایکٹر پر خریدی تھی جس سے بعد میں انہوں نے بہت نفع کمایا۔یہ زمین ہم نے پہاڑی ٹیلوں کے درمیان اس لئے خریدی ہے کہ میری ایک رؤیا اس زمین کے متعلق تھی۔یہ رد یا دسمبر ۱۹۴۱ء میں میں نے دیکھی تھی اور ۲۱ دسمبر ۱۹۴۱ء کے الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔اب تک دس ہزار آدمی یہ رویا پڑھ چکے ہیں اور گورنمنٹ کے ریکارڈ میں بھی یہ رویا موجود ہے۔میں نے اُس رویا میں دیکھا کہ قادیان پر حملہ ہوا ہے اور ہر قسم کے ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں مگر مقابلہ کے بعد دشمن غالب آ گیا اور ہمیں وہ مقام چھوڑنا پڑا۔باہر نکل کر ہم حیران ہی ہیں کہ کس جگہ جائیں اور کہاں جا کر اپنی حفاظت کا سامان کریں۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس کی نے کہا کہ میں ایک جگہ بتاتا ہوں۔آپ پہاڑوں پر چلیں وہاں اٹلی کے ایک پادری نے گر جاتی بنایا ہوا ہے اور ساتھ ہی اس نے بعض عمارتیں بھی بنائی ہوئی ہیں جنہیں وہ کرایہ پر مسافروں کو دیتا ہے وہ مقام سب سے بہتر رہے گا۔میں ابھی متر ڈ ر ہی تھا کہ اس جگہ رہائش اختیار کی ج جائے یا نہ کی جائے کہ ایک شخص نے کہا آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔اس نے سمجھا کہ کہیں میں رہائش سے اس لئے انکار نہ کر دوں کہ یہاں مسجد نہیں۔چنانچہ میں نے کہا اچھا مجھے مسجد دکھاؤ۔اس نے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی، چٹائیاں اور دریاں وغیرہ بھی بچھی ہوئی تھیں اور امام کی جگہ ایک صاف قالینی مصلی بچھا ہوا تھا اس پر میں خوش ہوا اور میں نے کہا لو اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسجد بھی دے دی اب ہم اسی جگہ رہیں گے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ باہر سے آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ بڑی کی تبا ہی ہے بڑی تباہی ہے اور جالندھر کا خاص طور پر نام لیا کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے۔پھر انہوں نے کہا ہم نیلے گنبد میں داخل ہونے لگے تھے مگر ہمیں وہاں بھی داخل نہیں ہونے دیا۔اُس وقت تک تو ہم صرف لاہور کا ہی نیلا گنبد سمجھتے تھے مگر بعد میں غور کرنے پر معلوم ہوا کہ نیلے گنبد