انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 488

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۸۸ دیباچہ تفسیر القرآن مسلمان اس بات کو دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ باوجود خالق اور مالک ہونے کے بندے کے قصوروں کو معاف کرتا اور اُس کی غلطیوں سے درگزر کرتا اور اُس کی ترقی کے سامان پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور اُس کی سزا دکھ دینے اور ذلیل کرنے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ وہ بندے کی اصلاح اور ترقی کے لئے ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کا خدا اُس کی تو بہ کے قبول کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور وہ اس کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور تو بہ اور ندامت کے بعد گناہوں کو جڑ سے اکھیڑ دیتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ باوجود عظیم الشان اور نہایت ہی بالا ہستی ہونے کے وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور انسان کے دل میں اس سے ملنے کا جتنا شوق ہے اس سے کہیں بڑھ کر خدا تعالیٰ کو اُس سے ملنے کا شوق ہے تو انسان کا دل محبت اور پیار سے بھر جاتا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اُس سے بھی زیادہ شوق سے جس شوق سے ایک بچہ اپنی ماں کی طرف جھکتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی ایسے انسان کی طرف محبت سے جھکتا ہے اس ماں کی محبت کی نسبت سے بھی زیادہ شدید محبت سے جو اپنے روتے ہوئے بچے کی طرف بھاگتی ہے۔پیدائش عالم اور انسان کا نقطۂ مرکزی ہونا قرآن کریم بتا تا ہے کہ اس نقطه مرکزی ، یعنی خدا تعالیٰ نے چاہا کی کہ ایک نیا عالم پیدا کرے جو اس کے نور اور اس کے جلال کا مظہر ہو۔تب اس نے یہ مادی عالم پیدا کیا۔اس عالم کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم نے جو روشنی ڈالی ہے وہ مختصراً یہ ہے فرماتا ہے وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَ الْاَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ وقتوں میں پیدا کیا ہے ( یعنی چھ اہم تبدیلیوں والے زمانوں میں ) وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء اور اس سے پہلے خدا تعالیٰ کا حکم پانی پر چلتا تھا۔اس پانی کی حالت سے زمین و آسمان کے پیدا کرنے کی غرض یہ تھی کہ وہ ایک انسان پیدا کرے جو نیکی اور بدی پر اختیار رکھتا ہو اور ہر قسم کے امتحانوں میں سے گزرتے ہوئے یہ ثابت کرے کہ ان میں سے کون دوسروں سے فائق ہو گیا اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کا نمونہ بن گیا ہے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ آسمان اور زمین کی ج