انوارالعلوم (جلد 20) — Page 483
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۸۳ دیباچہ تفسیر القرآن النَّافِعُ فائدہ پہنچانے والا ہے النُّوْرُ روشنی بخشنے والا ہے الْهَادِي ہدایت دینے والا ہے الْبَدِيعُ ایجاد کرنے والا ہے الْبَاقِي باقی رہنے والا ہے الْوَارتُ سب کا وارث ہے الرَّشِيدُ نیک راہ بتانے والا ہے الصبور بہت صبر کرنے والا ذُو الْعَرْشِ ذُو الْوَقَارِ ہر بات دلیل اور غرض کے مطابق کر نیوالا الْمُتَكَلِّمُ کلام کرنے والا الشَّافِي شفا دینے والا الْكَافِي سب حاجتوں کو پورا کرنے والا یہ ایک سو چار موٹے موٹے نام ہیں جو قرآن شریف سے اخذ کئے گئے ہیں، ان میں سے اکثر تو انہی الفاظ میں قرآن کریم میں بیان ہیں لیکن بعض ایسے ہیں جو قرآن کریم کی آیتوں سے اخذ کر کے لکھے گئے ہیں ان ناموں پر غور کر کے اس روحانی نظام کا ڈھانچہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے۔یہ صفات موٹے طور پر تین حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں۔اوّل وہ صفات جو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں مخلوق کا اُن کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔مثلاً الحي زندہ رہنے والا ہے۔القادر قدرت اور اختیار رکھنے والا ہے۔الماجد بزرگی رکھنے والا وغیرہ وغیرہ۔دوسری قسم کی صفات وہ ہیں جو مخلوق کی پیدائش کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے سلوک اور اس کے نسبتی تعلق پر دلالت کرتی ہیں مثلا الخالق۔المالک وغیرہ وغیرہ۔تیسری قسم کی صفات وہ ہیں جو بالا رادہ ہستیوں کے اچھے اور بُرے اعمال کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوتی ہیں۔مثلاً رحیم ہے ملک یوم الدین ہے عفو ہے رؤوف ہے وغیرہ وغیرہ۔بعض صفات بظاہر مکر ر نظر آتی ہیں لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر ایک