انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 455

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۵۵ دیباچہ تفسیر القرآن ایک ہونے کے کیا ثبوت ہیں۔کیوں کہ ایک سے زیادہ خدا التسلیم کرنا عقل کے خلاف ہے اور واقعہ کے بھی خلاف ہے اور دنیا کو توحید کے عقیدہ سے کیا کچھ روحانی فائدہ پہنچتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات کے بعد نبوت کا مقام ایک ایسا مقام ہے جو دنیا کے لئے ہمیشہ زیر بحث چلا آیا ہے۔نبی یا اس کے ہم معنی الفاظ کا استعمال تو تمام کتابوں میں پایا جاتا ہے، لیکن قرآن کی کے سوا کوئی ایک کتاب بھی نہیں جو یہ بتاتی ہو کہ اس لفظ کی تشریح کیا ہے؟ ہم کس شخص کو نبی کہہ سکتے ہیں اور کس شخص کو نبی نہیں کہہ سکتے اور نبوت کی کیا کیا اقسام ہیں، قرآن ہی ہے جو بتاتا ہے کہ نبی کی تعریف کیا ہے ، نبیوں کی کتنی قسمیں ہیں، نبی اور غیر نبی میں کیا فرق ہے، نبی کے فرائض کیا ہیں، نبی اور خدا میں کیا فرق ہے، نبی کی بعثت کی غرض کیا ہے، نبی اور اس کی اُمت کے درمیان کیسا تعلق ہونا چاہیے ، نبی کے حقوق کیا ہیں، نبی اور اس کے منکروں کے تعلقات کی بنیاد کیا ہونی چاہئے ، کیا نبی خدا اور بندوں کے درمیان ایک دیوار حائل کی حیثیت رکھتا ہے یا وہ محض ایک ممد اور مددگار کی حیثیت رکھتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم ملائکہ کے متعلق تفصیلی بحث کرتا ہے۔ملائکہ کے کیا کام ہیں، خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو کیوں بنایا ہے، اسی طرح وہ یہ بھی بحث کرتا ہے کہ شیطان کیا ہے، اس کا وجود بنی نوع انسان کے لئے کیوں ضروری ہے ، شیطان کے وساوس سے انسان کس طرح بچ سکتا ہے، شیطان اور انسان کا کیا تعلق ہے، کیا شیطان انسان کو مجبور کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا۔اور وہ بتاتا ہے کہ جس طرح ملائکہ انسان کے دل میں نیک تحریکیں پیدا کرتے ہیں اسی طرح شیاطین بد تحریکیں پیدا کرتے ہیں لیکن انسان کے اندر دونوں طاقتیں موجود ہیں۔وہ ملائکہ کی نیک تحریکوں کو قبول بھی کر سکتا ہے اور اُن کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے۔وہ شیطان کی بد تحریکوں کو قبول بھی کر سکتا ہے اور اُن کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے یہ دونوں وجود انسان کو کامل کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور اُس کے وجود کو ایک حقیقت عطا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ملکی اور شیطانی تحریکوں کے بغیر انسان کسی انعام کا مستحق نہیں بن سکتا اور نہ وہ کسی سزا کا مستوجب بن سکتا ہے۔اگر شیطان انسان پر اثر ڈالنے والا نہ ہو تو انسان کسی انعام کا بھی مستحق نہیں اور اگر ملکی تحریکیں دنیا میں موجود نہ ہوں تو انسان کسی سزا کا بھی مستوجب نہیں۔بدی ہی کا مقابلہ انسان کو انعام کا مستحق بناتا ہے