انوارالعلوم (جلد 20) — Page 32
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۲ دیباچہ تفسیر القرآن فرمائے تو ان کی قوم نے کہا يُصْلِحُ قَد كُنتَ فِينَا مَرْجُوا قبل هذا انتهينا أن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ايَاؤُنَا " اے صالح ! تو تو اس دعوی سے پہلے ہماری اُمیدوں کا مرکز تھا تو نے یہ کیا کیا کہ تو نے ہمیں اُس عبادت سے روک دیا جو ہمارے باپ دادا ایک مدتہ سے کرتے چلے آرہے تھے۔اسی طرح حضرت شعیب کے متعلق اُن کی قوم نے کہا۔يشُعَيْبُ أَصَلوتُكَ تَأمُرُكَ أن نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اباؤنا أو أن تفعل في أموالنا ما تشاء اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيمُ الرشید ۳۰ اے شعیب ! کیا تیری نماز تجھے یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے طریقوں کو ترک کر دیں یا ہم اپنے اموال کی تقسیم میں تیری ہدایات کی تقلید کریں اور اپنی مرضی چھوڑ دیں۔تو تو بڑا حلیم اور رشید تھا تجھے کیا ہوا ہے کہ تو ایسی غلط تعلیم دینے لگا۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت صالح ، حضرت شعیب اور اسی طرح باقی تمام انبیاء کے متعلق قرآن کریم میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ کوئی گمنام آدمی نہ تھے۔ان کی اقوام ان کی زندگیوں پر شاہد تھیں اور ان کی نیکی ، تقومی اور عبادت پر گواہ تھیں اور یہ نہیں کہ سکتی تھیں کہ کسی پوشیدہ حالات والے یا بد کار شخص نے قوم کو ٹوٹنے کی تجویز کی ہے۔بانیان مذاہب اور دنیوی تعلیم۔تمام کے تمام بانیان مذاہب دنیوی تعلیم کے لحاظ سے قریباً کورے تھے لیکن جو تعلیم اُنہوں نے لوگوں کی راہنمائی اور ہدایت کیلئے دی ہے وہ نہایت ہی اعلی ، مناسب حال اور مناسب زمانہ ہے اور اُس پر چل کر ان کی قوم نے صدیوں تک تہذیب اور شائستگی میں دنیا کی راہنمائی کی ہے۔یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ جو شخص دُنیوی علوم سے بے بہرہ ہے وہ خدا تعالیٰ پر افتراء کر کے یکدم ایسی قدرت حاصل کر لیتا ہے کہ اس کی بتائی ہوئی تعلیم اُس زمانہ کی تعلیمات پر فائق ہو اور ان پر غالب آ جائے ، یہ کام تو صرف ایک بالا ہستی کی تائید ہی سے ہوسکتا ہے۔