انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 422

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۲۲ مسلمان جانور کی پیٹھ پر نشان لگاتے ہیں اور اب اُن کی دیکھا دیکھی یورپ والے بھی پیٹھ نشان لگاتے ہیں۔مذہبی رواداری آپ مذہبی رواداری پر نہایت زور دیتے تھے اور خود بھی اعلیٰ درجہ کا نمونہ اس بارہ میں دکھاتے تھے۔یمن کا ایک عیسائی قبیلہ آپ سے مذہبی تبادلہ خیال کرنے کے لئے آیا۔جس میں اُن کے بڑے بڑے پادری بھی تھے۔مسجد میں بیٹھ کر گفتگو شروع ہوئی اور گفتگو لمبی ہوگئی۔اس پر اس قافلہ کے پادری نے کہا اب ہماری نماز کا وقت ہے ہم باہر جا کر اپنی نماز ادا کر آئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باہر جانے کی کیا تج ضرورت ہے ہماری مسجد میں ہی اپنی نماز ادا کر لیں۔آخر ہماری مسجد خدا کے ذکر ہی کے لئے بنائی گئی ہے۔۵۲۶ بہادری آپ کی بہادری کے کئی واقعات آپ کی سوانح میں بیان ہو چکے ہیں۔ایک واقعہ اس جگہ بھی لکھ دیتا ہوں۔جب مدینہ میں یہ خبریں مشہور ہونی شروع ہوئیں کہ روما کی حکومت ایک بڑا لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے بجھوا رہی ہے تو مسلمان خاص طور پر راتوں کو احتیاط کرتے اور جاگتے رہتے۔ایک دفعہ باہر جنگل کی طرف سے شور کی آواز آئی۔صحابہ جلدی جلدی اپنے گھروں سے نکلے کچھ اِدھر اُدھر دوڑنے لگے اور کچھ مسجد میں آکر جمع ہو گئے اور اس کی انتظار میں بیٹھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلیں تو آپ کے حکم پر عمل کریں اور اگر خطرہ ہو تو اُس کو دور کریں۔جب وہ لوگ اس انتظار میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلیں تو اُنہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے گھوڑے پر سوار باہر سے تشریف لا رہے ہیں معلوم ہوا کہ شور کی پہلی آواز پر ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہو کر جنگل میں اس بات کے دیکھنے کے لئے چلے گئے تھے کہ کوئی خطرہ کی بات تو نہیں۔اور آپ نے اس بات کا انتظار نہ کیا کہ صحابہ جمع ہو جائیں تو ان کے ساتھ مل کر باہر جائیں بلکہ اکیلے ہی باہر گئے اور حقیقت حال سے آگاہ ہو کر واپس آئے اور صحابہ کو تسلی دی کہ خطرہ کی کوئی بات نہیں تم آرام سے اپنے گھروں میں جا کر سور ہو۔۵۲۷