انوارالعلوم (جلد 20) — Page 30
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۰ دیباچهتفسیر القرآن سکتا ہے کہ ایسے پاکیزہ لوگوں نے جو انسان تک پر جھوٹ نہیں بولتے تھے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنا کی شروع کر دیا۔یقیناً ان کے دعوئی سے پہلے کی پاکیزہ زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے دعوی میں بچے تھے۔قرآن کریم نے خاص طور پر اس دلیل کو لیا ہے اور فرماتا ہے۔فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ ، أَفَلَا تَعْقِلُون 19 یعنی میں نے اپنی عمر تمہارے اندر گزاری ہے اور تم نے میری زندگی کو دیکھا ہے اور گواہی دی ہے کہ میں جھوٹ بولنے والا نہیں ہوں۔پھر تم کس طرح سمجھتے ہو کہ آج میں خدا تعالیٰ کی ذات پر افتراء کرنے لگ گیا ہوں۔اسی طرح فرماتا ہے۔لقَد من الله عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّن أَنْفُسِهِمْ ٢٠ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ بہت بڑا فضل اور انعام اور احسان کیا ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا ہے یہی مضمون ذیل کی آیت میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ لقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُ من آنْفُسِكُمْ ال یعنی تمہاری طرف تمہیں میں سے ایک رسول آیا ہے یعنی کوئی ایسا شخص تمہارے سامنے رسالت کا دعویٰ نہیں کر رہا جس کے حالات زندگی سے تم نا آشنا ہو بلکہ ایسا شخص مدعی کماً موریت ہے جس کے حالات کو تم خوب جانتے ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ اس کی زندگی کیسی پاکیزہ گزری ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اور انبیاء کے متعلق بھی یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ وہ اپنی قوم ہی میں سے مبعوث کئے گئے تھے۔اور اُس قوم کے لوگ یہ عذر نہیں کر سکتے کہ ہم ان کے حالات سے واقف نہیں۔اللہ تعالیٰ کی نے فرمایا ہے کہ جب دوزخی دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو اُن سے کہا جائے گا آلمْ يَأْتِكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ أيت رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاء يومكم هذا ۲۲ یعنی کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہیں آئے جو تم پر ہماری آیات پڑھا کرتے تھے اور تمہیں اس دن کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے؟