انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 28

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۸ دیباچہ تفسیر القرآن کھانے تک کی چیزیں زبر دستی اُٹھالا ؤ۔اسی طرح ویدوں میں چاند، سورج ، آگ ، پانی اور اندر سے یہاں تک کہ گھاس سے بھی یہ دعائیں کی گئی ہیں کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کو تباہ و برباد کر دیا جائے۔چنانچہ لکھا ہے کہ: اے آگ ! تو ہمارے مخالفوں کو جلا کر راکھ کر دے۔‘۱۳ ”اے اندر! تو ہمارے مخالفوں کو چیر پھاڑ ڈال اور جو ہم سے نفرت رکھتے ہیں انہیں تتر بتر کر دے۔۱۴ ” اے مخالفو! تم سر کٹے ہوئے سانپوں کی طرح بے سر اور اندھے ہو جاؤ اس کے بعد پھر اندر دیوتا تمہارے چیدہ چیدہ لوگوں کو تباہ کر دے۔‘۱۵ ”اے و بھ گھاس ! تو ہمارے مخالفوں کو جلا دے اور تباہ کر اور جس طرح تو پیدا ہوتے وقت زمین کو چیر کر باہر نکل آتا ہے ویسے ہی تو ہمارے مخالفوں کے سروں کو چیرتا ہوا او پر کونکل کر اُن کو تباہ کر کے زمین پر گرا دے۔‘۱۶ پھر ہندو دھرم میں یہ بھی تعلیم موجود ہے کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کے ساتھ بات چیت بھی نہ کرو گے اگر کوئی ویدوں پر اعتراض کرے تو اُسے ملک سے باہر نکال دو یعنی جبس دوام کی سزا دو۔' ۱۸ کنفیوشس ازم اور زردشت مذہب بھی قومی مذہب تھے۔انہوں نے کبھی بھی دنیا کو اپنا مخاطب نہ سمجھا نہ دنیا کو تبلیغ کرنے کی کوشش کی۔جس طرح ہندو مذہب کے مطابق ہندوستان خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کا ملک تھا اسی طرح کنفیوشس ازم کے مطابق چین آسمانی بادشاہت کا مظہر تھا اور زرتشتیوں کے نزدیک ایران آسمانی بادشاہت کا مظہر تھا۔اس اختلاف کے ہوتے ہوئے یا تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا کے پیدا کرنے والے کئی خدا ہیں اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے لئے اس اختلاف کو مٹا دینا ضروری تھا۔اب زمانہ اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ شاید مجھے اس بات کے متعلق کچھ خدا ایک زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والا اگر کوئی ہے تو وہ