انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 372

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۷۲ دیباچہ تفسیر القرآن بندھی اور ہم نے کہا عمر سچ کہتے ہیں۔رسول اللہ علہ فوت نہیں ہوئے ضرور اس بارہ میں لوگوں کی کو غلطی لگی ہے اور عمر کے قول کے ساتھ ہم نے اپنے دلوں کو تسلی دینی شروع کی۔اتنے میں بعض لوگوں نے دوڑ کر حضرت ابوبکر کو صورت حالات سے اطلاع دی۔اُن سے اطلاع پا کر حضرت ابو بکر بھی مسجد میں پہنچ گئے مگر کسی سے بات نہ کی سیدھے گھر میں چلے گئے اور جا کر حضرت عائشہ سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں؟ حضرت عائشہ نے فرمایا ہاں۔آپ رسول اللہ ہے کے پاس گئے آپ کے منہ پر سے کپڑا اٹھایا آپ کے ماتھے کو بوسہ دیا اور محبت کے چمکتے ہوئے آنسو آپ کی آنکھوں سے گرے اور آپ نے فرمایا خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔۳۸۹ یعنی یہ نہیں ہو گا کہ ایک تو آپ جسمانی طور پر فوت پر ہو جائیں اور دوسری موت آپ پر یہ وارد ہو کہ آپ کی جماعت غلط عقائد اور غلط خیالوں میں مبتلا ہو جائے۔یہ کہہ کر آپ باہر آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ منبر کی طرف بڑھے۔جب آپ منبر پر کھڑے ہوئے تو حضرت عمر بھی تلوار کھینچ کر آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اس نیت سے کہ اگر ابو بکر نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں تو میں اُن کو قتل کر دوں گا۔جب آپ بولنے لگے تو حضرت عمر نے آپ کا کپڑا کھینچا اور آپ کو خاموش کرنا چاہا تو مگر آپ نے کپڑے کو جھٹک کر اُن کے ہاتھ سے چھڑا لیا اور پھر قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ۔قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، آفَائِن مات أو قيل القلبتُم على اعقابكُمْ ۳۹۰ یعنی اے لوگو ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول تھے اُن سے پہلے اور بہت سے رسول گزرے ہیں اور سب کے سب ہو چکے ہیں کیا اگر وہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم لوگ اپنے دین کو چھوڑ کر پھر جاؤ گے ؟ دینی خدا کا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو نہیں۔یہ آیت اُحد کے وقت نازل ہوئی تھی جب کہ بعض لوگ یہ سن کر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں دل چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے۔اس آیت کے پڑھنے کے بعد آپ نے فرمایا اے لوگو! مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اُسے یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اُس پر کبھی موت وارد نہیں ہو سکتی۔وَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ اور