انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 26

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶ دیباچہ تفسیر القرآن میرے نزدیک ان چاروں سوالوں کا جواب ہی اس سوال کو حل کر دے گا کہ قرآن کریم کی سے پہلے مختلف کتب اور مختلف مذاہب کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔پس میں ان چاروں سوالوں کو باری باری لے کر جواب دیتا ہوں۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختلاف مذاہب خود اس پہلا سوال اور اس کا جواب بات کی دلیل نہ تھا کہ ان سب مذاہب کو متحد کرنے کے لئے کوئی اور مذہب آنا چاہئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مذہب اول انسان کو خدا تعالیٰ سے ملانے کے لئے آتا ہے اور دوسری غرض اس کی شفقت علی خلق اللہ کی تکمیل ہوتی ہے۔اسلام کے سوا باقی سب مذاہب مذاہب اسلام سے پہلے جتنے بھی مذاہب دنیا میں موجود تھے وہ سب ایک دوسرے سے قومی مذہب تھے یونیورسل نہ تھے مختلف بلکہ ایک دوسرے کو رڈ کرنے والے تھے۔بائبل دنیا کے خدا کو نہیں بلکہ بنی اسرائیل کے خدا کو پیش کرتی تھی ، چنانچہ اس میں بار بار یہ ذکر آتا ہے کہ: ” خداوند بنی اسرائیل کا خدا مبارک ہے جس نے تجھے بھیجا ہے کہ تو آج کے دن میرا استقبال کرے۔خداوند بنی اسرائیل کا خدا مبارک ہے جس نے آج کے دن ایک آدمی ٹھہرایا کہ میری ہی آنکھوں کے دیکھتے ہوئے تخت پر بیٹھے۔خداوند اسرائیل کا خداوندا بدالا با دمبارک ہو۔‘۵ و, خدا وند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے اپنے ہاتھ سے وہ کلام کہ جس کو اپنے منہ سے میرے باپ داؤد سے کہا تھا پورا کیا۔خداوند خدا اسرائیل کا خدا جوا کیلا ہے عجائب کا م کرتا ہے۔‘ کے حضرت مسیح بھی اپنے آپ کو صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث قرار دیتے تھے اور دوسری قوموں کے افراد کو دھتکار دیتے تھے۔چنانچہ انجیل میں لکھا ہے:۔تب یسوع وہاں سے روانہ ہو کے صور اور صیدا کی اطراف میں گیا اور دیکھو