انوارالعلوم (جلد 20) — Page 340
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۴۰ دیباچہ تفسیر القرآن مدد کرتا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا تی کہ تم سمجھ لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس بارہ میں ابھی میرے دل میں کچھ شبہات ہیں۔مگر ابوسفیان کے تر ڈر کے باوجود اُس کے دونوں ساتھی جو اُس کے ساتھ ہی مکہ سے باہر مسلمانوں کے لشکر کی خبر لینے کے لئے آئے تھے اور جن میں سے ایک حکیم بن حزام تھے وہ مسلمان ہو گئے۔اس کے بعد ابوسفیان بھی اسلام لے آیا، مگر اُس کا دل غالباً فتح مکہ کے بعد پوری طرح کھلا۔ایمان لانے کے بعد حکیم بن حزام نے کہا۔يَا رَسُوْلَ اللہ ! کیا یہ لشکر آپ اپنی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے اٹھا لائے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ان لوگوں نے ظلم کیا ، ان لوگوں نے گناہ کیا اور تم لوگوں نے حدیبیہ میں باندھے ہوئے عہد کو توڑ دیا اور خزاعہ کے خلاف ظالمانہ جنگ کی۔اُس مقدس مقام پر جنگ کی جس کو خدا نے امن عطا فر مایا ہوا تھا۔حکیم نے کہا يَا رَسُولَ الله! ٹھیک ہے آپ کی قوم نے بیشک ایسا ہی کیا ہے لیکن آپ کو تو چاہئے تھا کہ بجائے مکہ پر حملہ کرنے کے ہوازن قوم پر حملہ کرتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم بھی ظالم ہے لیکن میں خدا تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ وہ مکہ کی فتح اور اسلام کا غلبہ اور ہوازن کی شکست یہ ساری باتیں میرے ہی ہاتھ پر پوری کرے گا۔اس کے بعد ابوسفیان نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اگر مکہ کے لوگ تلوار نہ اُٹھا ئیں تو کیا وہ امن میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں! ہر شخص جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اُسے امن دیا جائے گا۔حضرت عباس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! ابوسفیان فخر پسند آدمی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میری عزت کا بھی کوئی سامان کیا جائے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا جو شخص ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا۔۳۵۲ے جو مسجد کعبہ میں گھس جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو اپنے ہتھیار پھینک دے اُس کو بھی امن دیا جائے گا ، جو اپنا نی دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے گا اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو حکیم بن حزام کے گھر میں چلا جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا۔اس کے بعد ابی رویحہ جن کو آپ نے بلال حبشی غلام کا بھائی بنایا ہوا تھا اُن کے متعلق آپ نے فرمایا۔ہم اس وقت ابی رویحہ کو اپنا جھنڈا دیتے ہیں جو شخص ابی رویحہ کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا ہم اُس کو بھی کچھ نہ کہیں گے۔اور بلال سے کہا تم کی