انوارالعلوم (جلد 20) — Page 321
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۲۱ دیا چه تفسیر القرآن گئے اور حبشہ کے بائیں سے بھی اسلامی لشکر نکل گئے۔مگر اس احسان کی وجہ سے جو حبشہ کے بادشاہ نے ابتدائی اسلامی مہاجرین کے ساتھ کیا تھا اور اس احترام کی وجہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا نجاشی نے کیا تھا اُنہوں نے حبشہ کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔قیصر جیسے بادشاہ کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔کسری جیسے بادشاہ کی حکومت کا نام ونشان مٹ گیا۔چین اور ہندوستان کی شہنشاہیاں تہہ و بالا کر دی گئیں مگر حبشہ کی ایک چھوٹی سے حکومت محفوظ رکھی گئی اس لئے کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ساتھیوں کے ساتھ ایک احسان اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا ادب اور احترام کیا تھا۔یہ تو وہ سلوک تھا جو ایک ادنیٰ سے احسان کے بدلہ میں حبشہ والوں سے مسلمانوں نے کیا۔مگر عیسائی اقوام نے جو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا بھی پھیر دینے کی مدعی ہیں اپنے ہم مذہب اور ہم طریقہ بادشاہ حبشہ اور اس کی قوم کے ساتھ جو سلوک اِن دنوں کیا ہے وہ بھی دنیا کے سامنے ظاہر ہے۔کس طرح کی حبشہ کے شہروں کو بمباری سے اُڑا دیا گیا اور بادشاہ اور اُس کی محترم ملکہ اور اس کے بچوں کو اپنا ملک چھوڑ کر غیر ملکوں میں سالہا سال پناہ لینی پڑی۔کیا حبشہ سے یہ دوفتم کا سلوک ایک مسلمانوں کا ایک عیسائیوں کا اُس قوت قدسیہ کو ثابت نہیں کرتا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی اور جو آج تک بھی کہ مسلمان بہت کچھ دین سے دور جا چکے ہیں اُن کے خیالات کو نیکی اور احسان مندی کی طرف مائل رکھتی ہے۔مقوقس شاہ مصر کے نام خط چوتھا خط آپ نے مقوی بادشاہ مصرکی طرف لکھا تھا ور اس کا مضمون یہ تھا:۔یہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی معرفت آپ نے بھجوایا۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى الْمَقَوْقَسِ عَظِيمِ الْقِبْطِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمُ تَسْلَمُ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ إِثْمُ الْقِبْطِ - وَيَا أَهْلَ الْكِتَب تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ