انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 250

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن حملہ ایسا اچانک ہوا اور کافروں کا تعاقب کرنے کی وجہ سے مسلمان اتنے پھیل چکے تھے کہ کوئی کی با قاعدہ اسلامی لشکر اُن لوگوں کے مقابلہ میں نہیں تھا۔اکیلا اکیلا سپاہی میدان میں نظر آ رہا تھا، جن میں سے بعض کو اُن لوگوں نے مار دیا۔باقی اس حیرت میں کہ یہ ہو کیا گیا ہے پیچھے کی طرف دوڑے۔چند صحابہ دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے ، جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ تمہیں تھی۔۲۶۱ کفار نے شدت کے ساتھ اُس مقام پر حملہ کیا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔یکے بعد دیگرے صحابہ آپ کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جانے لگے۔علاوہ شمشیر زنوں کے تیرانداز اُونچے ٹیلوں پر کھڑے ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بے تحاشہ تیر مارتے تھے۔اُس وقت طلحہ جو قریش میں سے تھے اور مکہ کے مہاجرین میں شامل تھے یہ دیکھتے ہوئے کہ دشمن سب کے سب تیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی طرف پھینک رہا ہے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کے آگے کھڑا کر دیا۔تیر کے بعد تیر جو نشانہ پر گرتا تھا وہ طلحہ کے ہاتھ پر گرتا تھا، مگر جانباز اور وفادار صحابی اپنے ہاتھ کو کوئی حرکت نہیں دیتا تھا۔اس طرح تیر پڑتے گئے اور طلحہ کا ہاتھ زخموں کی شدت کی وجہ سے بالکل بیکار ہو گیا اور صرف ایک ہی ہاتھ اُن کا باقی رہ گیا۔سالہا سال بعد اسلام کی چوتھی خلافت کے زمانہ میں جب مسلمانوں میں خانہ جنگی واقع ہوئی تو کسی دشمن نے طعنہ کے طور پر طلحہ کو کہا۔ٹنڈا۔اس پر ایک دوسرے صحابی نے کہا ہاں ٹنڈا ہی ہے مگر کیسا مبارک ٹنڈا ہے۔تمہیں معلوم ہے طلحہ کا یہ ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی حفاظت میں ٹنڈا ہوا تھا۔اُحد کی جنگ کے بعد کسی شخص نے طلحہ سے پوچھا کہ جب تیر آپ کے ہاتھ پر گرتے تھے تو کیا آپ کو در دنہیں ہوتی تھی اور کیا آپ کے منہ سے اُف نہیں نکلتی تھی ؟ طلحہ نے جواب دیا۔در دبھی ہوتی تھی اور اُف بھی نکلنا چاہتی ہے تھی، لیکن میں اُف کرتا نہیں تھا تا ایسا نہ ہو کہ اُف کرتے وقت میرا ہا تھ ہل جائے اور تیر رسول کریم می صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر آگرے۔مگر یہ چند لوگ کب تک اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کر سکتے تھے۔لشکر کفار کا ایک گروہ آگے بڑھا اور اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد کے سپاہیوں کو دھکیل کر پیچھے کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا پہاڑ کی طرح وہاں کھڑے تھے کہ زور سے ایک پتھر آپ کے