انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 245

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۴۵ دیباچہ تفسیر القرآن کی طرف سے وعدہ ہے اور یہ تباہی کی گھڑی بڑی ہلاکت والی اور بڑی کڑوی ہو گی اُس دن کی مجرم پریشانی اور عذاب میں مبتلا ہوں گے اور اپنے مونہوں کے بل گھسیٹ کر اُن کو آگ کے گڑھوں میں ڈال دیا جائے گا اور کہا جائے گا اب پڑے عذاب چکھو۔یہ آیتیں سورہ قمر کی ہیں اور سورہ قمر تمام اسلامی رواتیوں کے مطابق مکہ میں نازل ہوئی تھی۔مسلمان علماء بھی اس سورۃ کو پانچویں سے دسویں سال بعد دعوی نبوت قرار دیتے ہیں۔یعنی ہجرت سے کم سے کم تین سال پہلے یہ نازل ہوئی تھی بلکہ غالباً آٹھ سال پہلے۔یورپین محقق بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔چنانچہ نولڈ کے اس سورۃ کو دعوی نبوت کے پانچ سال بعد کی قرار دیتا ہے۔ریورنڈ ویری لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک نولڈ کے نے اس سورۃ کے نزول کا وقت کسی قدر پہلے قرار دے دیا ہے۔وہ اپنا اندازہ یہ بتاتے ہیں کہ چھٹے یا ساتویں سال ہجرت سے پہلے یہ نازل ہوئی۔جس کے معنی یہ ہیں کہ اُن کے نزدیک یہ سورۃ چھٹے یا ساتویں سال بعد دعوی نبوت کی ہے۔بہر حال مسلمانوں کے دشمنوں نے بھی اس سورۃ کو ہجرت سے کئی سال پہلے کا قرار دیا ہے۔اُس زمانہ میں کس صفائی کے ساتھ اس جنگ کی خبر دی گئی تھی اور کفار کا انجام بتاتی دیا گیا تھا اور پھر کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ان آیات کو پڑھ کر مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ خدا کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔غرض چونکہ وہ وقت آ گیا تھا جس کی خبر یسعیاہ نبی نے قبل از وقت دے چھوڑی تھی ۲۵۴ کی اور جس کی خبر قرآن کریم نے دوبارہ جنگ شروع ہونے سے چھ یا آٹھ سال پہلے دی تھی اس لئے با وجود اس کے کہ مسلمان اس جنگ کے لئے تیار نہ تھے اور باوجود اس کے کہ کفار کو بھی اُن کے بعض ساتھیوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔لڑائی ہوگئی اور ۳۱۳ آدمی جن میں سے اکثر نا تجربہ کار اور سب ہی بے سامان تھے کفار کے تجربہ کار لشکر کے مقابلہ میں جس کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی کھڑے ہو گئے۔جنگ ہوئی اور چند ہی گھنٹوں کے اندر عرب کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔یسعیاہ کی پیشگوئی کے مطابق قیدار کی حشمت جاتی رہی اور مکہ کی فوج کچھ لاشیں اور کچھ قیدی پیچھے چھوڑ کر سر پر پاؤں رکھ کر مکہ کی طرف بھاگ پڑی۔جو قیدی پکڑے گئے اُن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چا عباس بھی تھے جو ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا