انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 13

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۳ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک ہے۔ان کے نزدیک آپ نے قوم کی تمام رسوم کو چھوڑ کر ایک نیا طریق اختیار کر لیا تھا۔ان کے اندر یہ احساس تھا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا، اس لئے وہ آپ کو پاگل کہتے تھے لیکن آپ صرف منہ سے ہی نہیں کہتے تھے بلکہ جو کہتے تھے اس کے لئے پوری جد و جہد بھی کرتے تھے۔جب ان کے کہنے کے بعد بھی آپ رات اور دن جد و جہد میں لگے رہے تو وہ کہتے یہ شخص پکا پاگل ہے مگر آپ برابر اس کے لئے اپنی زندگی کو لگاتے چلے گئے کیونکہ آپ کو یہ یقین تھا کہ یہ کام آپ کر کے چھوڑیں گے اور اس میں ضرور کامیاب ہوں گے۔تو حید کے مسئلہ کو لے لو جس کو آجکل بڑے فخر کے ساتھ تم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہو اور تمہاری گردنیں ان کے سامنے بلند رہتی ہیں۔تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ فطرتی مسئلہ ہے حالانکہ اس مسئلہ کو بھی وہ مجنونانہ خیال سمجھتے تھے۔قرآن میں آتا ہے کہ اجعل الأيقةَ الْهَا وَاحِدًا في وہ لوگ یہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایک خدا ہو سکتا ہے، ان کے نزدیک تو کئی خدا تھے۔ان کا یہ خیال تھا کہ آپ نے سارے خداؤں کو کوٹ کر ایک خدا بنالیا ہے۔ان کے ذہنوں میں ایک خدا کا مسئلہ آتا ہی نہیں تھا۔بھیرہ کے ایک طبیب تھے جن کا نام الہ دین تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی کتب کو پڑھا ہوا تھا۔وہ آپ کے بہت معتقد تھے لیکن احمدی نہیں ہوئے تھے۔ان کے پاس ان کا ایک مریض احمدی چلا گیا اور اس نے تبلیغ شروع کر دی۔آپ کے دعوئی کا انہیں علم تھا وہ اپنے آپ کو بہت بڑا عالم سمجھتے تھے اور حضرت خلیفہ اول جن کے علم و فضل کا ہر ایک اقرار کرتا ہے وہ ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ نورالدین کیا جانتا ہے ، وہ تو صرف ابتدائی باتیں جانتا ہے۔جب اس دوست نے انہیں تبلیغ کی تو کہنے لگے میاں جانے بھی دو کیا مرزا صاحب کی کتابوں کو تم مجھ سے زیادہ سمجھتے ہو۔میں آپ کی کتابوں کو جتنا سمجھتا ہوں تم نہیں سمجھتے۔میں نے آپ کی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا ہوا ہے۔آپ بڑے عالم ہیں کیا وہ اتنی بڑی بیوقوفی کی بات کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔قرآن میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔بھلا آپ جیسا عالم یہ کہ سکتا ہے کہ وہ زندہ نہیں۔اصل میں تم نے کتابوں کو غور سے پڑھا نہیں۔مجھے اصل بات کا پتہ ہے۔