انوارالعلوم (جلد 20) — Page 11
انوار العلوم جلد ۲۰ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک سکتا۔میں نے حج سے کہا میں ادبی عورت ہوں اور میرے کام میں میرا خاوند روک بنتا ہے اس کی لئے میں طلاق لینا چاہتی ہوں۔حجج نے کہا ٹھیک ہے ، اس طرح تو ملک کا ادب خراب ہو جائے گا۔غرض ساری باتیں ایسی ہی مضحکہ خیز نہیں مگر ایک زمانہ ایسا گذرا ہے کہ طلاق پر بڑا اعتراض کی کیا جا تا تھا اور طلاق کے بعد شادی کو نخش خیال کیا جاتا تھا۔مگر اب وہی مسئلہ ہے جس پر دوسری قو میں بھی عمل کر رہی ہیں بلکہ اس میں حد سے زیادہ گذر گئی ہیں۔پھر قریب کی شادیاں ہیں۔عیسائی اور ہندو بھی اس پر اعتراض کرتے تھے۔مگر اب مسودے تیار ہورہے ہیں کہ اس کی اجازت ہونی چاہئے۔غرض اب غیر قو میں بھی اسلامی احکام کی فضیلت کو تسلیم کر رہی ہیں لیکن اسلام میں کوئی ایک حکم نہیں بلکہ ہزاروں احکام ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔بھلا وہ لوگ جو ہر وقت سوٹ پہنے کے دلدادہ ہیں ، آجکل حج کیسے کر سکتے ہیں وہاں ان سلے کپڑے پہننے کی پڑتے ہیں ان کو یہ لوگ کیسے برداشت کر سکتے ہیں یہ تو کہیں گے نَعُوذُ باللہ یہ کیا بد تمیزی کی بات ہے۔غرض یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ ان کو مسلمانوں میں بھی رائج کرنا مشکل ہے کجا یہ کہ ان کو یورپین ممالک میں رائج کیا جائے۔وہ تو چھوٹی سے چھوٹی باتوں پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں۔ہمارے مبلغ جب امریکہ میں گئے تو وہ وہاں دیسی لباس پہنا کرتے تھے۔ایک دن دو عورتیں آئیں اور انہوں نے کہا ہم اسلام کے متعلق باتیں سننے آئی ہیں۔ہمارے مبلغ شلوار پہنے باہر آگئے۔وہ کمرے میں داخل ہوئے ہی تھے کہ وہ عورتیں شور مچا کر بھاگیں کہ ہمارے سامنے یہ شخص ننگا آ گیا ہے، ہماری ہتک ہے۔مبلغ نے کہا میں کیسے نگا ہوں، میں نے تو شلوار پہنی ہوئی ہے لیکن ان کے نزدیک یہ نائٹ ڈریس تھا اور رات کو ہی پہنا جاتا تھا اور ان کے نزدیک نائٹ ڈریس میں آدمی ننگا ہوتا ہے۔غرض بہت شور ہوا، محلہ والے انہیں مارنے کو دوڑے۔اتنے میں کوئی پادری آگئے اور انہوں نے کہا یہ تو ان کے ملک کا لباس ہے ان کے نزدیک ایسے شخص کو ننگا نہیں کہتے۔میں جب انگلینڈ گیا تو میں نے چند گرم پاجامے سلوائے تھے مگر وہاں جا کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں شلوار ہی پہنوں گا، میں ان کا لباس کیوں پہنوں۔ہمارے جو وہاں مبلغ تھے وہ