انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 215

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۱۵ دیباچہ تفسیر القرآن سے ہٹا دیتے تھے۔بعض جو پہلے سے مکہ والوں کی باتیں سن چکے ہوتے وہ ہنسی اُڑا کر آپ۔جدا ہو جاتے۔اسی حالت میں آپ منی کی وادی میں پھر رہے تھے کہ چھ سات آدمی جو مدینہ کے باشندے تھے آپ کی نظر پڑے۔آپ نے اُن سے کہا کہ آپ لوگ کس قبیلہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا خزرج قبیلہ کے ساتھ۔آپ نے کہا وہی قبیلہ جو یہودیوں کا حلیف ہے؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا کیا آپ لوگ تھوڑی دیر بیٹھ کر میری باتیں سنیں گے؟ اُن لوگوں نے چونکہ آپ کا ذکر سنا ہوا تھا اور دل میں آپ کے دعوی سے کچھ دلچسپی تھی اُنہوں نے آپ کی بات مان لی اور آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی باتیں سنے لگ گئے۔آپ نے اُنہیں بتایا کہ خدا کی بادشاہت قریب آرہی ہے ، بت اب دنیا سے مٹا دئیے جائیں گے ، تو حید کو دنیا میں قائم کر دیا جائے گا۔نیکی اور تقویٰ پھر ایک دفعہ دنیا میں قائم ہو جائیں گے۔کیا مدینہ کے لوگ اس عظیم الشان نعمت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ انہوں نے آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوئے اور کہا آپ کی تعلیم کو تو ہم قبول کرتے ہیں۔باقی رہا یہ کہ مدینہ اسلام کو پناہ دینے کے لئے تیار ہے یا نہیں اس کے لئے ہم اپنے وطن جا کر اپنی قوم سے بات کریں گے پھر ہم دوسرے سال کی اپنی قوم کا فیصلہ آپ کو بتائیں گے۔۲۲۱ یہ لوگ واپس گئے اور انہوں نے اپنے رشتہ داروں کی اور دوستوں میں آپ کی تعلیم کا ذکر کرنا شروع کیا۔اُس وقت مدینہ میں دو عرب قبائل اوس اور خزرج بستے تھے اور تین یہودی قبائل یعنی بنو قریظہ اور بنو نضیر اور بنو قینقاع۔اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی تھی۔بنو قریظہ اور بنو نضیر اوس کے ساتھ اور بنو قینقاع خزرج کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔مدتوں کی لڑائی کے بعد اُن میں یہ احساس پیدا ہورہا تھا کہ ہمیں آپس میں صلح کر لینی چاہئے۔آخر باہمی مشورہ سے یہ قرار پایا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول جو خزرج کا سردار تھا اُسے سارا مدینہ اپنا بادشاہ تسلیم کر لے۔یہودیوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اوس اور خزرج بائبل کی کی پیشگوئیاں سنتے رہتے تھے۔جب یہودی اپنی مصیبتوں اور تکلیفوں کا حال بیان کرتے تو اُس کے آخر میں یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ ایک نبی جو موسیٰ کا مثیل ہوگا ظاہر ہونے والا ہے اُس کا وقت کی قریب آ رہا ہے جب وہ آئے گا ہم پھر ایک دفعہ دنیا پر غالب ہو جائیں گے ، یہود کے دشمن تباہ کر دیئے جائیں گے۔جب اُن حاجیوں سے مدینہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھ