انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 197

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۹۷ بھی اسلام سے باز آؤ گے یا نہیں؟ مگر وہ ان تکالیف کو برداشت کرتے اور جواب میں یہی کہتے کہ میں صداقت کو پہچان کر اُس سے انکار نہیں کر سکتا۔حضرت ابوذر، غفار قبیلہ کے ایک آدمی تھے وہاں اُنہوں نے سنا کہ مکہ میں کسی شخص نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعوی کیا ہے۔وہ تحقیقات کے لئے مکہ آئے تو مکہ والوں نے اُنہیں ورغلایا اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو ہمارا رشتہ دار ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اُس نے ایک دکان کھولی ہے۔مگر ابوذر اپنے ارادہ سے باز نہ آئے اور کئی تدابیر اختیار کر کے آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم بتائی اور آپ اسلام لے آئے۔آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ اگر میں کچھ عرصہ تک اپنی قوم کو اپنے اسلام کی خبر نہ دوں تو کچھ حرج تو نہیں ؟ آپ نے فرمایا اگر چند دن کی خاموش رہیں تو کوئی حرج نہیں۔اس اجازت کے ساتھ وہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس چلے اور دل میں فیصلہ کر لیا کہ کچھ عرصہ تک میں اپنے حالات کو درست کرلوں گا تو اپنے اسلام کو ظاہر کروں گا۔جب وہ مکہ کی گلیوں میں سے گزر رہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ رؤسائے مکہ اسلام کے خلاف گالی گلوچ کر رہے ہیں۔کچھ دنوں کے لئے اپنے عقیدہ کو چھپائے رکھنے کا خیال اُن کے دل سے اُسی وقت محو ہو گیا۔اور بے اختیار ہو کر اُنہوں نے اس مجلس کے سامنے یہ اعلان کیا اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه - یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔دشمنوں کی اس مجلس میں اس آواز کا اُٹھنا تھا کہ سب لوگ ان کو مارنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اتنا مارا کہ وہ بیہوش ہو کر جا پڑے لیکن پھر بھی ظالموں نے اپنے ہاتھ نہ کھینچے اور مارتے ہی چلے گئے۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس جو اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے وہاں آگئے اور اُنہوں نے اِن لوگوں کو سمجھایا ج کہ ابوذر کے قبیلہ میں سے ہو کر تمہارے غلے کے قافلے آتے ہیں اگر اُس کی قوم کو غصہ آگیا تو کی مکہ بھوکا مر جائے گا۔اِس پر اُن لوگوں نے اُن کو چھوڑ دیا۔ابوذر نے ایک دن آرام کیا اور دوسرے دن پھر اُسی مجلس میں پہنچے۔وہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف باتیں کرنا