انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 186

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۸۶ دیباچہ تفسیر القرآن کرے گی ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے شوق سے اُس مجلس میں شامل ہو گئے۔اس مجلس کے ممبروں نے ان الفاظ میں قسمیں کھائی تھیں کہ : وو وہ مظلوموں کی مدد کریں گے اور اُن کے حق اُن کو لے کر دیں گے جب تک کہ سمندر میں ایک قطرہ پانی کا موجود ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے تو وہ خود اپنے پاس سے مظلوم کا حق ادا کر دیں گے“۔۱۸۵ شاید اس قسم پر عمل کرنے کا موقع آپ کے سوا اور کسی کو نہیں ملا۔جب آپ نے دعوی نبوت کیا اور سب سے زیادہ مکہ کے سردار ابو جہل نے آپ کی مخالفت میں حصہ لیا اور لوگوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کوئی بات نہ کرے۔اُن کی کوئی بات نہ مانے۔ہر ممکن طریق سے اُن کو ذلیل کرے۔اُس وقت ایک شخص جس نے ابو جہل سے کچھ قرضہ وصول کرنا تھا مکہ میں آیا اور اُس نے ابو جہل سے اپنے قرضہ کا مطالبہ کیا۔ابو جہل نے اُس کا قرض ادا کر نے سے انکار کر دیا۔اُس نے مکہ کے بعض لوگوں سے اس امر کی شکایت کی اور بعض نوجوانوں نے شرارت سے اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ بتایا کہ اُن کے پاس جاؤ وہ تمہاری اِس بارہ میں مدد کریں گے۔اُن کی غرض یہ تھی کہ یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس مخالفت کے مد نظر جو مکہ والوں کی طرف سے عموماً اور ابو جہل کی طرف سے خصوصاً ہو رہی تھی اُس کی امداد کرنے سے انکار کر دیں گے اور اس طرح عربوں میں ذلیل ہو جائیں گے اور قسم توڑنے والے کہلائیں گے یا پھر آپ اس کی مدد کے لئے ابو جہل کے پاس جائیں گے اور وہ آپ کو ذلیل کر کے اپنے گھر سے نکال دے گا۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ شخص گیا اور اُس نے ابو جہل کی شکایت کی تو آپ بلا تامل اُٹھ کر اس کے ساتھ چل دیئے اور ابو جہل کے دروازہ پر جا کر دستک دی۔ابو جہل گھر سے باہر نکلا اور دیکھا کہ اُس کا قرض خواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُس کے دروازہ پر کھڑا ہے۔آپ نے فوراً اُسے توجہ دلائی کہ اس شخص کا تم نے فلاں فلاں حق دینا ہے اس کو ادا کرو اور ابو جہل نے بلا چون و چرا اُس کا حق اُسے ادا کر دیا۔جب شہر کے رؤساء نے ابو جہل کو ملامت کی کہ تم ہم سے تو یہ کہا کرتے تھے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ذلیل کرو اور اس سے کوئی تعلق نہ رکھو لیکن تم نے خود اُس کی بات