انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 157

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچهتفسیر القرآن واقع ہو گیا، مسیح کو تو پھر بھی کچھ فائدہ نہیں ہونے کا۔خواہ مسلمان فلسطین پر حاکم رہیں خواہ یہودی، مسیح کا دامن تو خالی ہی رہتا ہے اور وہ اس پیشگوئی کا مستحق کسی صورت میں بھی نہیں ٹھہرتا۔پھر اس پیشگوئی میں لکھا تھا کہ اسور اور مصر تک ایک شاہراہ ہو گی یعنی یہ ملک آپس میں مل جائیں گے۔اسوری مصر میں آئیں گے اور مصری اسور کو جائیں گے اور مصری اسور یوں کے ساتھ مل کر عبادت کریں گے۔کیا یہ مسیح کے ذریعہ سے ہوا؟ عیسائی بے شک مصر پر قابض ہوئے اور اسور پر بھی قابض ہوئے اور ان ملکوں کی کثرت ایک وقت میں عیسائی بھی ہو گئی۔لیکن کیا کبھی بھی وہ زمانہ آیا ہے جب مذکورہ بالا آیتوں کا مضمون مصر اور ا سور کی حالت پر صادق آیا ہو؟ ان آیتوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ملکوں کی قومیت ایک ہو جائے گی اور اُن کی زبان ایک ہو جائے گی۔مل کر عبادت کرنے کے بھی یہی معنی ہیں اور ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کا بھی یہی مطلب ہے۔ورنہ ہر ملک کے لوگ دوسرے ملک میں آیا جایا ہی کرتے ہیں۔پیشگوئی کا مفہوم یہی ہے کہ وہ اتنے متحد ہو جائیں گے کہ اُن کی ایک قوم ہو جائے گی۔مگر دنیا جانتی ہے کہ عیسائی حکومت کے زمانہ میں کبھی بھی مصرا اور اسور ایک نہیں ہوئے۔روم کے ماتحت بے شک یہ دونوں ملک تھے لیکن ہمیشہ مصر کا انتظام اور رنگ کا رہا اور اسور کا انتظام اور رنگ کا رہا۔مصر میں ایک نیم آزاد بادشاہ حکومت کرتا تھا اور اسور میں ایک گورنر رہتا تھا۔بلکہ مصر کا کلیسیا اسور کے کلیسیا سے بالکل مختلف تھا۔مصر میں عیسائیت نے اسکندریہ کے گر جا کے ماتحت ایک نئی شکل اختیار کر لی تھی اور وہ فلسطین اور شامی گر جا کی شکل سے بالکل مختلف تھی۔پھر مصریوں کی عبادت قبطی زبان میں ہوتی تھی اور شامیوں کی عبادت بگڑی ہوئی مخلوط عبرانی اور یونانی زبان میں۔ہاں اسلامی زمانہ میں یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔صدیوں تک ی شام اور مصر ایک حکومت رہے دونوں ملکوں کی زبان ایک ہو گئی اور اب تک ایک ہے۔جس کی تی وجہ سے دونوں کی عبادت اکٹھی ہوتی تھی اور اکٹھی ہوتی ہے۔دونوں ملکوں میں ایک قوم ہونے کا احساس پیدا ہو گیا۔شامی علماء مصر میں جاتے تھے اور وہ مصری علماء کی طرح ہی معزز گنے جاتے تھے اور مصری علما ء شام میں آتے تھے اور وہ شامی علماء کی طرح ہی معزز گنے جاتے تھے۔اس زمانہ میں بھی کہ یورپین سیاست نے اسلامی ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے عرب لیگ میں