انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 151

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۵۱ دیباچہ تفسیر القرآن اُٹھا کر دشمن کی طرف پھینکے تھے تو ان کنکروں کو پھینکنے والا تیرا ہاتھ نہیں تھا بلکہ خدا کا ہاتھ تھا۔اسی طرح آپ کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے ان الذين يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله ١٦٠ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔یعنی تو اللہ تعالیٰ کا مظہر ہے۔پس اس کی پیشگوئی کے مطابق اگر کوئی شخص ہو سکتا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات ہو سکتی ہی ہے۔پھر لفظ قادر بھی آپ ہی کی ذات پر دلالت کرتا ہے کیونکہ آپ ہی تھے جنہوں نے اپنی کی زندگی میں اپنے سارے دشمنوں کو زیر کر لیا اور تمام مخالفتوں اور عداوتوں کا سر کچل دیا۔چوتھا نام ابدیت کا باپ بتایا گیا ہے۔یہ علامت بھی آپ پر ہی چسپاں ہوتی ہے کیونکہ آپ ہی ہیں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ کی تعلیم قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کہ جس آنے والے مسیح کی خبر دی گئی ہے وہ بھی آپ کی اُمت کا ایک فرد ہوگا کوئی نیا شخص نہیں ہوگا جس کی وجہ سے آپ کی بادشاہت میں کوئی فرق یا اختلال واقعہ ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ وَيَقُولُونَ مَتى هَذَا الوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَدِقِينَ - قُل لَّكُمْ ميعَادُ يَوْمٍ لَا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلا تَسْتَقْدِمُون ۱۶۱ یعنی ہم نے تجھے صرف اس لئے بھیجا ہے تا کہ تمام بنی نوع انسان کو تو اس طرح جمع کرے کہ اُن میں سے کوئی طبقہ اور کوئی زمانہ تیری تبلیغ سے باہر نہ رہے اور تو تمام انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر کے طور پر کام دے۔لیکن اکثر انسان تیری اس حیثیت سے واقف نہیں ہیں۔پھر فرماتا ہے دشمن اعتراض کرتے ہیں کہ یہ وعدہ کہ تو سب دنیا کی طرف اور ہمیشہ کیلئے ہے کس طرح پورا ہوگا۔اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل دو۔اس کا جواب دیتا ہے کہ تو اُن سے کہہ دے کہ تمہارے لئے ہم ایک مدت مقرر کر چکے ہیں تم نہ اس مدت سے ایک ساعت پیچھے رہ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھو گے۔یعنی چی وہ وعدہ عین وقت پر پورا ہو جائے گا۔یہ مدت وہی ہے جس کا ذکر سورہ سجدہ میں کیا گیا ہے۔سورہ سجدہ میں اللہ فرماتا ہے يُدير الأمر مِنَ السَّمَاء إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اليه في يوم كان مقدارةٌ آلَفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ۶۲ اللہ تعالی اسلام کو دنیا میں قائم کرے گا۔پھر اسلام کا زور رفتہ رفتہ کم ہونا شروع ہوگا اور ایک دن میں جس کی لمبائی ایک ہزار