انوارالعلوم (جلد 20) — Page 129
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۲۹ دیباچهتفسیر القرآن بتاتی ہے کہ وہ فاران میں رہا۔اب فاران کے جغرافیہ کے متعلق تو اسمعیل کی اولاد کی گواہی ہی کی تسلیم کی جائے گی کیونکہ وہی فاران کی رہنے والی ہے۔بنواسرائیل تو تاریخ اور جغرافیہ میں اتنے کمزور تھے کہ وہ اس رستہ کو بھی صحیح طور پر بیان نہیں کر سکے جس رستہ پر چل کر وہ مصر سے کنعان آئے تھے دوسرے ملکوں کے متعلق اُن کی گواہی کی قیمت ہی کیا ہے۔دنیا میں ایک ہی قوم ہے جو اپنے آپ کو اسمعیل کی اولا د کہتی ہے اور وہ قریش ہیں اور وہ عرب میں بستے ہیں اور مکہ مکرمہ اُن کا مرکز ہے۔اگر عربوں کا یہ دعویٰ غلط ہے تو سوال یہ ہے کہ اس غلط دعویٰ کے بنانے کی انہیں غرض کیا تھی۔بنو اسحاق تو اُن کو کوئی عزت دیتے ہی نہیں تھے۔پھر ایک جنگل میں رہنے والی قوم کو اس بات کی کیا ضرروت پیش آئی تھی کہ وہ اپنے آپ کو اسمعیل کی اولا دقرار دے اور اگر اُس نے جھوٹ بنایا ہی تھا تو اسمعیل کی اصل اولا د کہاں گئی ؟ بائبل کہتی ہے کہ اسمعیل کے ۱۲ بیٹے تھے۔بائبل کہتی ہے کہ اُن ۱۲ بیٹوں کی نسل آگے بہت پھیلے گی۔لکھا ہے:۔” اور اس لونڈی کے بیٹے (اسماعیل) سے بھی میں ایک قوم پیدا کروں گا اِس لئے کہ وہ بھی تیری نسل ہے، ۱۲۲ پھر لکھا ہے:۔اُٹھ اور لڑکے (اسماعیل) کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اُس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔‘۱۲۲ پھر لکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا :۔اور اسمعیل کے حق میں میں نے تیری سنی ، دیکھ میں اُسے برکت دوں گا اور اُسے برومند کروں گا اور اُسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے ۱۲ سردار پیدا ہوں گے اور میں اُسے بڑی قوم بناؤں گا“۔۱۲۴ ان پیشگوئیوں میں بتایا گیا ہے کہ اسمعیل کی نسل بہت پھیلے گی اور بڑی بابرکت ہوگی۔اگر ی عرب کے لوگوں کا دعوی جھوٹا ہے تو پھر بائبل بھی جھوٹی ہے کیونکہ دنیا میں اور کوئی قوم اپنے آپ کو بنو اسمعیل نہیں کہتی جس کو پیش کر کے بائبل کی ان پیشگوئیوں کو سچا ثابت کیا جا سکے اور اگر قریش بنو اسمعیل ہیں تو پھر ابراہیم بھی سچا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو برکت دی اور ابراہیم