انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 112

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۱۲ دیباچهتفسیر القرآن علم ہیئت کے لحاظ سے یہ بات کیسی ہی عجیب کیوں نہ ہو میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس حکایت کی تفصیلات کے متعلق بھی ویدوں میں بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔کرشن یجروید تیتری سنگتا میں لکھا ہے:۔سورج پہلے زمین پر تھا۔دیوتا اپنی پیٹھوں پر اُسے رکھ کر او پر جنت میں لے گئے اور وہیں رکھ دیا۔کرشن یجر وید میں لکھا ہے :۔سورج کو صرف ورن دیوتا ہی زمین سے اٹھا کر او پر جنت میں لے گیا تھا“۔لیکن رگوید منڈل نمبر ، سوکت ۱۵۶ منترہ میں لکھا ہے:۔کیلئے آگ دیوتا نے سورج کو او پر جنت میں لے جا کر رکھا تھا اور رگوید منڈل نمبر ۱۰ منتر ۳ میں لکھا ہے:۔سورج کو انگر ارشی کی اولا د نے اوپر لے جا کر جنت میں رکھا تھا۔اتھر و وید کا نڈ نمبر ۱۳ سوکت نمبر ۲ منتر نمبر ۱۲ میں لکھا ہے:۔وه اے سورج! تجھے اوپر جنت میں لے جا کر صرف اکیلے اتری رشی نے اس لئے رکھا تھا تا کہ تو مہینوں کو بنایا کرے۔شکل یجر ویدا دھیائے نمبر ۴ منتر ۳۱ میں لکھا ہے:۔سورج کو اوپر لے جا کرا کیلے ورن دیوتا نے ہی رکھا تھا“۔قطع نظر اس کے کہ سورج کو زمین سے اُٹھا کر آسمان پر رکھنے کا عقیدہ کیسا مضحکہ خیز ہے اور بتا تا ہے کہ پرانے زمانہ کے ہندوؤں میں یہ خیال تھا کہ سورج ایک بہت چھوٹی سی چیز ہے اور زمین کے کسی گوشہ میں رکھی جاسکتی ہے۔یہ بات غور طلب ہے کہ اس مضحکہ انگیز خیال کے مطابق بھی اتنی متضاد روایتیں ہیں کہ وہ تضاد خود اپنی ذات میں مضحکہ انگیز ہو جاتا ہے۔صرف رگوید کی مختلف فصلوں میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ایک فصل میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ آگ دیوتا نے سورج کو اُٹھا کر آسمان پر رکھا لیکن اس کتاب کی دوسری فصل میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نہیں بلکہ اندر دیوتا نے ایسا کیا۔اور پھر اسی کتاب کے ایک اور منتر میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ کام ان دونوں